خبر کی تحقیق
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۳۲
تاکہ وہ شبہات ڈالنے اور الزام لگانے کی اپنی مکروہ مہم کو بدستور جاری رکھ سکیں ، اور اس طرح وہ اپنی غلطی کے اعتراف سے بچے رہیں۔
آپ نے اپنی جماعت کے اخباروں کی صفائی پیش کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ بغیر تبصرہ کے ویسی کی ویسی ہی شائع کی۔ اس سلسلہ میں مجھے دو باتیں عرض کرنا ہے۔ ایک یہ کہ اس قسم کی شر انگیز بات کو ویساہی نقل کرنا بھی بلاشبہ ایک گناہ کا فعل ہے۔ یہ اس حدیث کا مصداق ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کفی بالمرء كذبا ان يحدث بكل ما سمع۔
مزید یہ کہ آپ کا یہ کہنا بالکل خلاف واقعہ ہے کہ آپ کے اخباروں نے مذکورہ تصویر کو ”بلا تبصرہ شائع کیا تھا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ انگریزی ریڈینیس (۶-۱۲؍ دسمبر ۱۹۹۸) نے ایک مختصر لیکن گمراہ کن کیپشن کے ساتھ اس کو شائع کیا۔ ہندی کا نتی (۱۳-۱۹؍ دسمبر ۱۹۹۸) نے سخت شرارت آمیز الفاظ کے ساتھ اس کو شائع کیا۔ جہاں تک سہ روزہ دعوت کا تعلق ہے ، اس نے اپنے شمارہ ۲۸ دسمبر ۱۹۹۸ میں میرا ایک مضمون تصویری پروپیگنڈا شائع کیا۔ یہ مضمون مختلف اخباروں میں چھپ چکا ہے اور تمام غیر جانب دار لوگوں کے لئے وہ مکمل طور پر اطمینان بخش ثابت ہوا ہے۔ مگر اس مضمون کے آخر میں ’’دعوت‘‘ کی طرف سے اوسطر کا ایک نوٹ شامل کیا گیا۔ یہ نوٹ بلاشبہ ایک شر انگیز نوٹ تھا۔ کیوں کہ ان کے الفاظ میں راقم الحروف نے اس میں ’’نفس مسئلہ کو نہیں چھوا‘‘۔
یہ نوٹ پڑھ کر میں نے سوچا کہ قدیم مدینہ میں جن لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہ کے ایک قصہ کو لے کر ان کو نعوذ باللہ بدنام کرنے کی کوشش کی وہ موجودہ زمانہ کے لوگوں کے مقابلہ میں کم شریر تھے۔ قرآن میں حضرت عائشہ صدیقہ کے معاملہ کی بابت صرف اتنا کہا گیا کہ وہ افک (بیہودہ) بات ہے۔ اس پر وہ لوگ خاموش ہو گئے۔ حالانکہ اگر وہ ہمارے موجودہ کرم فرماؤں کی طرح ہوتے تو وہ بھی انھیں کی طرح کہہ دیتے کہ نعوذ باللہ ’’قرآن نے نفس مسئلہ کو نہیں چھوا‘‘۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues