Al-Risala · June 1999 · page 33

خبر کی تحقیق

الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۳۳

۱۳۔ آپ نے لکھا ہے کہ آپ کی جماعت کے اخبارات نے ایک گمراہ کن تصویر کو چھاپ کر مجھے بدنام کرنے کی جو کوشش کی اس پر آپ نے اور جماعت کے دوسرے اصحاب نے ان جماعتی اخباروں کے کارکنوں کی "سرزنش" کی۔ میں عرض کروں گا کہ اس معاملہ میں اس قسم کی ذاتی سرزنش سر اسر ناکافی ہے۔ شرعی اصول کے مطابق، آپ کو اپنی سرزنش ان اخبارات کے کالموں میں باقاعدہ چھپوانا چاہئے جنہوں نے اس برائی کو چھاپ کر ہر طرف پھیلایا۔ جو برائی چھاپ کر کی گئی ہو اس کے خلاف سرزنش بھی چھاپ کر ہی کی جاسکتی ہے، خاموش طور پر نہیں۔ آپ نے اور آپ کی جماعت کے جن لوگوں نے اس معاملے میں جماعت کے اخبار والوں کی انفرادی سرزنش کی، ان کے مجرمانہ فعل کے مقابلہ میں اس قسم کی سرزنش کی کوئی اہمیت نہیں۔ غیر اشاعتی جرم کی سرزنش غیر اشاعتی طور پر کی جاتی ہے اور اشاعتی جرم کی سرزنش اشاعتی طور پر۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایسے ناصحین، قرآن کے الفاظ میں، یحبون ان یحمدوا بما لم يفعلوا (آل عمران (۱۸۸) کے مصداق ہیں۔

۱۴۔ آپ نے میرے بارہ میں غضب (غصہ) کی شکایت کی ہے اور یہ اشارہ فرمایا ہے کہ آپ اپنی تحریروں میں سکینت اور روحانیت کا اظہار کرتے ہیں مگر آپ کے اندر میں غضب کا جذبہ پایا ہے اور غضب اور روحانیت کا ایک ساتھ جمع ہونا ممکن نہیں۔ میں عرض کروں گا کہ آپ کی یہ بات درست نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روحانی آدمی کے اندر غضب نہ ہونے کا تصور ایک غیر اسلامی تصور ہے، وہ کوئی اسلامی تصور نہیں۔ اس معاملہ میں صحیح اسلامی تصور یہ ہے کہ آدمی کا غضب صرف حق کے لئے ہو، وہ اپنی ذات کے لئے نہ ہو۔ اس کی تائید میں یہاں میں چند حوالے نقل کرتا ہوں۔

حضرت موسیٰ " خدا کے پیغمبر تھے مگر قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر غضب کی حالت طاری ہوئی (الاعراف ۱۵۰) اسی طرح اگر آپ حدیث کی کتابوں کو دیکھیں تو اس میں کثرت سے رسول اور اصحاب رسول کے غضب کا ذکر ملے گا۔ اس سلسلہ میں بطور نمونہ صرف

‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues

Printed page