خبر کی تحقیق
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۳۴
چند مثالیں یہاں نقل کی جاتی ہیں۔
فغضب رسول الله حتى عرف الغضب في وجهه (صحیح مسلم، کتاب الفضائل) فغضب رسول الله غضبا شديدا (صحیح البخاری، کتاب الاذان)
فغضب ابو بکر (صحیح البخاری، کتاب الادب)
فغضب عمر (صحیح البخاری، کتاب التفسیر)
فغضب على حتى احمر وجهه (النسائی، کتاب الضحایا)
فقالت عائشة وغضبت (مسند احمد)
ان حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر جیسے مؤمن کامل میں بھی غضب کی کیفیت پائی جاتی تھی۔ اب آپ ان پیغمبروں اور ان صالحین کے بارہ میں کیا فرمائیں گے۔ آپ کے خیال کے مطابق، ان کے اندر روحانیت تھی یا نہیں؟
۱۵۔ آپ نے لکھا ہے کہ یہ خط میں الدین النصيحة کے جذبہ کے تحت لکھ رہا ہوں۔ آپ نے مجھ کو انانیت کا شکار بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ ”اس ۱۰/۱۲ سالوں میں آپ کی تحریرات میں یہ کیفیت بڑھتی ہی جارہی ہے۔ خدا کے لئے اس کی فکر اور اصلاح کی کوشش کیجئے ۔ “ عرض ہے کہ آپ کا یہ ارشاد کوئی نصیحت نہیں بلکہ وہ صرف ایک الزام ہے۔ آپ نے میری تحریروں سے میری انانیت کی کوئی مثال نہیں دی۔ ایسی حالت میں آخر میں کس چیز کی اصلاح کروں یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کسی شخص سے کہا جائے کہ تم مجرم ہو اور تم خود ہی اپنا جرم ثابت کرو۔ نصیحت وہ ہے جس میں غلطی کی واضح اور مدلل نشاندہی کی گئی ہو۔ یہ نصیحت کی لازمی شرط ہے۔ اس کے بغیر جو نصیحت کی جائے اس کو نصیحت کرنا نہیں کہا جائے گا بلکہ ملزم گردانا کہا جائے گا جو بر عکس طور پر خود نا صحیح کو غلط کار ثابت کرتا ہے۔ ۱۶۔ آپ نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ”تصویری فتنہ“ کے معاملہ میں آپ نے اگر فوری طور پر تردید کر دی ہوتی تو یہ معاملہ جماعت کے اخباروں میں نہ آتا۔ چونکہ ہندی اخبار میں اس کی
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues