Al-Risala · June 1999 · page 35

خبر کی تحقیق

الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۳۵

اشاعت کے بعد فوراً آپ نے اس کی تردید نہیں کی اس لئے یہ معاملہ جماعت کے اخباروں میں آگیا۔ میں عرض کروں گا کہ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں اشاعت فاحشہ (النور ۱۹) کہا گیا ہے۔

عرض ہے کہ میں دہلی میں ۱۹۷۲ء سے ہوں۔ اس مدت میں میرے بارے میں ہزاروں بار الرسالہ میں یا ملکی پریس میں ”اچھی خبریں“ چھپی ہیں مگر آپ کی جماعت کے اخبارات نے کبھی ان کو اپنے صفحات میں شائع کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی، وہ مسلسل ان کا بلیک آؤٹ کرتے رہے۔ اس ۳۰ سالہ مدت میں انہیں ایک بدنام ہندی اخبار میں میرے بارے میں اتفاق سے ایک ”بری خبر“ مل گئی۔ اس کے بعد آپ کی جماعت کے اخباروں نے ضروری تحقیق کے بغیر اور گمراہ کن نوٹ کے ساتھ اس کو اپنے صفحات میں چھاپ کر پھیلانا شروع کر دیا۔ ماہنامہ الرسالہ کے خبر نامہ میں بار بار ایسی خبریں چھپتی ہیں جو بتاتی ہیں کہ راقم الحروف نے ملک کے اندر اور ملک کے باہر غیر مسلموں کے بڑے بڑے اجتماعات میں اسلام کی نمائندگی کی مگر اس قسم کی دعوتی خبریں آپ کی جماعت کے اخبارات کے نزدیک قابل اشاعت نہ تھیں۔ ملک کے انگریزی اخبارات میں مسلسل میرے ایسے مضامین چھپ رہے ہیں جن میں اسلام کا صحیح تعارف کیا جاتا ہے اور اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کا جواب دیا جاتا ہے۔ مگر یہ خبریں بھی آپ کی جماعت کے اخبارات میں قابل ذکر نہیں قرار پاتیں۔

ملکی پریس اور T.V میں بار بار میں ایسا کر رہا ہوں کہ اکثریتی فرقہ کے سامنے مسلمانوں کی روشن تصویر پیش کروں اور یہ بتاؤں کہ مسلمان اس ملک کے لئے اثاثہ (asset) کی حیثیت رکھتے ہیں نہ کہ کوئی بوجھ (liability)، اور یہ کہ اس ملک کے مسلمان عملاً یہاں کی نیشنل مین اسٹریم میں ہیں، وہ اس سے الگ نہیں۔

اسلام اور مسلمانوں کے متعلق اس طرح کی بہت سی مثبت باتیں میں مسلسل طور پر ملک کے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں پیش کرتا رہا ہوں اور اب بھی پیش کر رہا ہوں۔ مگر آپ کی

‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues

Printed page