Al-Risala · June 1999 · page 36

خبر کی تحقیق

الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۳۶

جماعت کے اخبارات نے ہمیشہ اس کے بارے میں بلیک آؤٹ کا معاملہ کیا۔ اس مدت میں میرے بارے میں ہزاروں اچھی خبریں آتی رہیں مگر انہوں نے اس قسم کی کثیر خبروں کو اپنے صفحات میں جگہ نہیں دی۔ البتہ ایک بدنام ہندی اخبار میں میرے بارے میں اتفاق سے ان کو ایک ”بری خبر ہاتھ آ گئی تو وہ اس کو اس طرح پھیلانے لگے جیسے کہ وہ کوئی بڑا کارنامہ انجام دے رہے ہوں۔ یہ سادہ طور پر اشاعتِ خبر نہیں، بلکہ یہ عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں اشاعتِ فحشہ (النور (۱۹) کہا گیا ہے۔

۱۷۔ آپ نے لکھا ہے کہ ـــــــــ ”ایک فرد کے تعلق سے یہ بات ہے تو ایک جماعت کے تعلق سے تحقیق کے بغیر باتیں کہنا اور زیادہ شدید تر گناہ ہے۔ “ یعنی آپ کے نزدیک فرد کے خلاف کوئی سنگین الزام لگانا چھوٹا گناہ ہے اور ”جماعت“ کے خلاف الزام لگانا زیادہ بڑا گناہ۔ میرے نزدیک یہ تقسیم درست نہیں۔ قرآن و حدیث میں مجھے کوئی ایسا حکم نہیں ملا جس سے یہ تفریق ثابت ہوتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا اور رسول کے نزدیک ایک انسان کی عزت اتنی ہی اہم ہے جتنی سارے انسانوں کی عزت اہم ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ : جس نے ایک انسان کو ناحق قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر ڈالا (المائدہ ۳۲) حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

کل المسلم علی المسلم حرام عرضه وماله (الترندی، کتاب البر، (۱۸) اسی طرح روایت میں آیا ہے کہ ایک صحابی مکہ میں کعبہ کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کعبہ کی طرف دیکھا اور اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ما أعظمك وأعظم حرمتك والمؤمن اعظم حرمة عند الله منك ـ (ابن ماجہ، کتاب الفتن)۔

آپ حضرات نے جو جماعت بندی کی ہے وہ امت کے اندر ایک اور امت بنانا ہے۔ یہ خود ایک غیر اسلامی فعل ہے۔ کجا کہ اس کی بنیاد پر جماعت کو خصوصی اعزاز کا مستحق سمجھا جائے۔ ۱۸۔ آپ نے مجھ کو خدا پرست کے بجائے خود پسند ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جو آدمی

‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues

Printed page