Al-Risala · June 1999 · page 37

خبر کی تحقیق

الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۳۷

خدا پرست ہو وہ صرف خدا کی کبریائی کا قائل ہوگا۔ اللہ نے اگر دین کی خدمت کے مواقع نصیب کیے ہیں تو اس کی شکر گزاری میں زبان تر رہنی چاہئے نہ کہ اپنی بڑائی کے بیان کرنے میں۔ آپ کا یہ ریمارک آخری حد تک خلاف واقعہ ہے۔ میری تحریروں کو پڑھنے والے عام طور پر اس کا اققرار کرتے ہیں کہ میری تحریروں میں سب سے زیادہ جس چیز کا ذکر ہوتا ہے وہ اللہ کی بڑائی اور آخرت کی فکر ہے۔ آپ میری کسی بھی تحریر کو دیکھیں تو اس میں یہ پہلو نمایاں طور پر نظر آئے گا۔ حتی کہ اس موضوع پر ۲۲۸ صفحات پر مشتمل میری ایک مستقل کتاب ’’اللہ اکبر‘‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ پھر آخر آپ کے پاس وہ کون سے شواہد ہیں جن کی بنیاد پر آپ نے میرے خلاف اتنا بڑا ریمارک دیا ہے کہ میں اپنی ذاتی بڑائی میں گم رہتا ہوں۔ میں نے اپنی تحریروں میں بار بار یہ لکھا ہے کہ خدا پر ایمان کوئی لفظی تکرار کی بات نہیں، یہ سب سے زیادہ عظیم حقیقت کی ڈسکوری ہے۔ یہ خدا کی کبریائی کے مقابلہ میں اپنے صغیر ہونے کو دریافت کرنا ہے، یہ خدا کے کے مقابلہ میں اپنے نہیں کو جان لینا ہے۔ مومن وہ ہے جو اس حقیقت کو پالے کہ خدا قادر مطلق ہے اور میں عاجز مطلق۔ جو آدمی اس حقیقت سے آگاہ ہو جائے وہ انسان اصلی (man cut to size) بن جاتا ہے جس کا دوسرا نام تواضع اور فروتنی ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو شاید مبالغہ نہ ہو گا کہ یہ جو بات آپ نے میرے بارے میں فرمائی ہے وہ سراسر بے بنیاد ہے۔ میرے مضامین جو خلق کے علم میں ہیں اور میرے صبح وشام جو خدا کے علم میں ہیں، دونوں آخری حد تک اس کی تردید کرتے ہیں۔

۱۹۔ آپ اور آپ کی جماعت کے دوسرے لوگ معصومانہ طور پر مجھ سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ میں اس واقعہ کی برہنہ تردید کروں۔ مگر میں کہوں گا کہ یہ برہنہ تردید کا معاملہ نہیں بلکہ برہنہ اعتراف کا معاملہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ حضرات کا یہ مطالبہ خود آپ حضرات کی اسلامیت کو مشتبہ کر رہا ہے۔ اس طرح کے بے ہودہ الزام کے بارے میں اسلام کی جو صحیح تعلیم ہے اس کا رخ آپ لوگوں کی طرف ہے نہ کہ میری طرف۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues

Printed page