Al-Risala · June 1999 · page 38

Prima facie it stands rejected.

الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۳۸

قدیم مدینہ میں جب ایک شوشہ کو لے کر حضرت عائشہ صدیقہ پر ایک بے ہودہ الزام لگایا گیا تو اس کے بعد قرآن کی جو آیتیں اتریں اس میں جو تعلیم دی گئی وہ یہ نہیں تھی کہ اس قسم کا بے ہودہ الزام کسی پر لگایا جائے تو لوگوں کو چاہیے کہ وہ زیر الزام شخص سے مطالبہ کریں کہ تم کھلے لفظوں میں اس کی تردید کرو۔ اور زیر الزام شخص اس وقت تک بری الذمہ نہ سمجھا جائے جب تک کہ وہ کھلے لفظوں میں اس کی تردید نہ کر دے۔ اس کے بالکل برعکس قرآن (النور ۱۵۔ ۱۷) میں جو کچھ کہا گیا وہ یہ تھا:

جب کہ تم اس کو اپنی زبانوں سے نقل در نقل کر رہے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کی تم کو (کسی دلیل سے) مطلق خبر نہیں اور تم اس کو ہلکی بات سمجھ رہے تھے حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بھاری بات ہے اور تم نے جب اس کو سنا تو کیوں نہ کہا کہ ہم کو زیبا نہیں کہ ہم ایسی بات منہ سے بھی نکالیں۔ معاذ اللہ یہ تو بڑا بہتان ہے۔ اللہ تعالیٰ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ پھر ایسا کام کبھی نہ کرنا اگر تم ایمان والے ہو۔ (ترجمہ مولانا اشرف علی تھانوی) قرآن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے لغو پروپیگنڈے کے معاملہ میں قرآن نے یہ اصول دیا ہے کہ اس کو سنتے ہی بلا بحث اسے رد کر دیا جائے۔ یعنی اس کے بارے میں وہی سلوک کیا جائے جس کو انگریزی میں اس طرح کہا گیا ہے :

Prima facie it stands rejected.

مذکورہ آیت میں یعظکم الله ان تعودوا لمثله ابداً (النور ۱۷) کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اس حکم کا تعلق صرف حضرت عائشہ سے نہ تھا بلکہ اس کا تعلق تمام مسلمانوں سے اور ہمیشہ کے لئے تھا۔ اس شدید حکم کے باوجود آپ کی جماعت کے لوگوں نے اس مذموم فعل کو میرے ساتھ دہرایا اور اس کے خلاف آپ کی جماعت میں کوئی آواز بلند نہیں کی گئی۔ اس طرح آپ کی جماعت کے تمام لوگ براہ راست یا بالواسطہ طور پر علی الاعلان اس ممنوع فعل کے مرتکب ہو چکے ہیں۔ اس جرم سے آپ حضرات اس وقت تک بری الذمہ نہیں ہو سکتے جب تک اعلان و

‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues

Printed page