Al-Risala · June 1999 · page 39

Prima facie it stands rejected.

الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۳۹

اشاعت کے ساتھ آپ لوگ اس سے توبہ اور رجوع نہ کریں۔ مذکورہ خط جیسی تحریر صرف آپ حضرات کی سرکشی میں اضافہ کرتی ہے، وہ ہر گز آپ کے جرم میں کوئی کمی کرنے والی نہیں۔ ۲۰۔ ایک اور پہلو سے دیکھیے تو آپ کی جماعت کے لوگوں نے مجھ کو اس معاملہ میں جس - طرح شرمناک طور پر بدنام کرنے کی کوشش کی وہ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک بدترین جرم نظر آئے گا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ لۃ ۱۴۷ سے پہلے کے دور میں غیر منقسم ہندوستان میں ہر روز سیکڑوں آدمی اسلام میں داخل ہوتے تھے۔ ۱۹۴۷ء کے بعد یہ عمل رک گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے کے دور میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نارمل تعلقات تھے۔ نفرت اور کشیدگی کا ماحول نہیں تھا۔ اس نارمل فضا میں روز مرہ کی ملاقاتوں کے دوران دعوت کا عمل فطری طور پر جاری تھا۔ ملکی تقسیم کی تحریک اور پاکستان کے قیام کے نتیجہ میں طرفین کے درمیان جو تلخی پیدا ہوئی اس نے اس دعوتی عمل (process) کوروک دیا۔

پچھلے تقریباً ۳۰ سال سے میں خاموشی کے ساتھ یہ کوشش کرتا رہا ہوں کہ دونوں گروہوں کے درمیان تلخی اور کشیدگی کا ماحول ختم ہو تا کہ دونوں کے درمیان دوبارہ اوپن ڈائیلاگ ہونے لگے۔ اور دعوت کا فطری عمل دوبارہ جاری ہو جائے۔ میرا یقین ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان نارمل فضا قائم ہوتے ہی عین وہی فائدہ یہاں حاصل ہو گا جو صلح حدیبیہ کے بعد اسلام کے دور اول میں حاصل ہوا تھا۔ اور خود اس ملک میں ۱۹۴۷ء سے پہلے کے دور میں عملاً موجود تھا۔

اس دعوتی ماحول کو قائم کرنے کے لئے میں نے غیر معمولی قربانیاں دیں۔ طرح طرح کے نقصانات اٹھائے۔ مثال کے طور پر ملک کے دوسرے مسلم رہنما کچھ نو پرابلم ہندوؤں کے ساتھ خوشگوار ملاقات کر لینے کو کافی سمجھے ہوئے تھے۔ میں نے تجربہ کے بعد دریافت کیا کہ اصل مسئلہ پرابلم ہندوؤں کو نارمل بنانے کا ہے۔ چنانچہ میں نے ہر قسم کی مصیبت اٹھا کر پرابلم ہندوؤں کے درمیان انٹر ایکشن بڑھا لیا جو کہ بلاشبہ ایک سخت دشوار کام تھا۔ اللہ کی تائید سے میری

‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues

Printed page