Prima facie it stands rejected.
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۴۴
اخبار راجستھان پتریکا میں میرے بارہ میں ایک مضمون شائع کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ دوسرے مسلمانوں کا طریقہ عداوت کا ہے اور مولا نا وحید الدین کا طریقہ دعوت کا۔ دہلی کے قکی آڈیٹوریم میں ایک جلسہ ہوا۔ یہ جلسہ دہلی کے آرایس ایس حلقہ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس میں صرف دو مقرر تھے۔ ایک میں اور دوسرے جناب اٹل بہاری واجپئی۔ میں نے اپنی تقریر کا موضوع وما ارسلناك الا رحمة للعالمين بنایا۔ اور تقریباً آدھ گھنٹہ کی پوری تقریر اسلام کے تعارف پر کی۔ اس کے بعد جناب اٹل بہاری واجپئی اسٹیج پر آئے۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں تقریر کی اور شروع ہی میں مجھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: مولانا صاحب، یہ وچ منچ ہے، یہ پرچار منچ نہیں۔ اس قسم کے بہت سے واقعات ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ میں ”کٹر ہندوؤں“ کے جلسوں میں جاتا ہوں تو وہاں میں اپنی تقریر میں کیا بات کہتا ہوں۔ جو لوگ پابندی کے ساتھ ماہنامہ الرسالہ پڑھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ میری زندگی کا واحد مشن دعوت ہے۔ اسلام کے پیغام رحمت کو تمام قوموں تک پہنچانا۔ اسی کو میں نے اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہے۔ ملک کے اندر اور ملک کے باہر ہر جگہ میں مسلسل یہی کام کر رہا ہوں۔ آرایس ایس کے جلسوں میں جانا بھی اسی سلسلہ تعارف کی ایک کڑی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانہ میں اسلام اجنبی ہو جائے گا۔ موجودہ زمانہ میں چونکہ غیر مسلموں میں جا کر انھیں اسلام کا پیغام پہونچانے کا کام تقریباً ختم ہو گیا ہے اسلئے کچھ لوگ اس کو اجنبیت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر مجھے یہ یقین ہے کہ میرا یہ عمل ایک عبادت ہے۔ میں اللہ سے یہ امید رکھتا ہوں کہ میرا یہ کام انشا اللہ اس مخصوص دینی عمل میں شمار کیا جائے گا جس کو حدیث میں مردہ سنت کو زندہ کرنے کا نام دیا گیا ہے۔ روایتی دین پر عمل کرنے والا فوراً لوگوں کی نظر میں مقبول بن جاتا ہے۔ لیکن متروک دین پر عمل کرنے کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ دین کے متروک جزء پر عمل کرنا ہمیشہ نہایت مشکل کام ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے۔ اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ ان اعظم الجزاء مع عظم البلاء (الترمذی، کتاب الزهد)
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues