Prima facie it stands rejected.
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۴۵
خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۴۱
ا۔ ہندی روزنامہ راشریہ سہارا (دہلی) کے نمائندہ مسٹر کھلیش سمن نے ۱۰ فروری ۱۹۹۹ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو اسلام کے بعض مسائل پر تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اسلام میں اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے۔ البتہ تشدد کی آزادی کسی کو نہیں۔ اگر کسی کو ایک شخص کی رائے غلط یا غیر اسلامی معلوم ہوتی ہے تو وہ اس کے خلاف تشدد نہیں کر سکتا۔ اس کو عقلی اور نقلی دلائل کی روشنی میں اس کی تردید کرنا چاہئے۔ سماجی جرائم پر اسلام میں سخت سزائیں ہیں۔ مگر کسی سزا کے نفاذ کا حق صرف جائز طور پر قائم شدہ عدالت کو ہے نہ کہ افراد کو۔
۲۔ فرنچ نیوز ایجنسی کے نمائندہ مسٹر نارائن سوامی نے ۱۲ فروری ۱۹۹۹ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ اسلام میں آزادی رائے کا کیا درجہ ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام میں آدمی کو مکمل آزادی رائے حاصل ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ تشدد نہ کرے۔ کسی کو اگر کسی کی رائے سے اختلاف ہو تو وہ دلیل سے اس کا توڑ کر سکتا ہے مگر تشدد کی اجازت کسی کو بھی نہیں۔
۳۔ اکھل بھارتی ودیا رتھی پریشد کی طرف سے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (نئی دہلی) میں ۲۰ فروری ۱۹۹۹ کو یونیورسٹی کے طلبہ کا ایک جلسہ ہوا۔ صدر اسلامی مرکز کو اس میں خطاب کی دعوت دی گئی۔ انھوں نے اس موقع پر علم اور تعلیم کی اہمیت پر ایک تقریر کی۔ مزید یہ کہ ہمارے ملک کی قومی پہچان صرف ایک ہے، اور وہ کیر کٹر ہے۔ اس کے سوا کسی اور چیز کو ملک کی پہچان بنانا صرف ملک کو تباہ کر سکتا ہے، وہ ملک کو ترقی کی طرف نہیں لے جا سکتا۔ ۴۔ دکن ہیرالڈ کے نمائندہ مسٹر بھاشم کستوری نے ۲۵ فروری ۱۹۹۹ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ اسلام میں فکری آزادی ہے یا نہیں۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام میں مکمل فکری آزادی ہے البتہ تشدد کی آزادی اسلام میں نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues