Prima facie it stands rejected.
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۴۶
۵- ہندی ہفت روزہ مایا کے لئے اس کے نمائندہ مسٹر بی ڈی ایس گوتم نے ۲۳ جنوری ۱۹۹۸ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر کنورژن سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ حالات میں جو لوگ اینٹی کنورژن قانون کی بات کرتے ہیں وہ ایک غیر قانونی اور غیر دستوری بات کر رہے ہیں۔ ہندوازم کا یہ نظریہ ہے کہ سچائی ایک ہے اور مختلف مذاہب کے وہاں تک پہنچنے کے مختلف راستے ہیں۔ ایسی حالت میں اینٹی کنورژن قانون کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں پر یہ پابندی لگائی جائے کہ وہ سچائی کی منزل تک پہنچنے کے لئے راستہ نمبر ایک سے جاسکتے ہیں لیکن راستہ نمبر دو، تین سے نہیں جاسکتے۔ اسی طرح اینٹی کنورژن قانون ہندوستانی دستور کے خلاف ہے۔ اور اقوام متحدہ میں ہمارے کئے ہوئے عہد کے خلاف ہے۔ ایسی حالت میں جو لوگ اینٹی کنورژن کی بات کرتے ہیں انھیں اس سے پہلے ہندوازم کے تصور مذہب کو بدلنا ہوگا، انھیں دستور ہند سے مذہبی آزادی کی دفعہ کو نکالنا ہوگا اور اسی طرح اقوام متحدہ سے اپنا دستخط واپس لینا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ یہ سب ممکن نہیں۔ اس لئے اینٹی کنورژن قانون بھی جائز طور پر ممکن نہیں۔ اور اگر ان سب کے باوجود اینٹی کنورژن بنایا جائے تو وہ دہر معیار کو اپنانا ہوگا۔ جو تمام برائیوں سے زیادہ بڑی برائی ہے۔
۶- ایک صاحب اپنے تفصیلی خط مورخہ چار اپریل میں لکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو صبر اپنے اور پرائے کی مخالفت کے باوجود دیا ہے وہ اس کو بر قرار رکھے۔ (آمین) پچھلے چند ماہ سے جو فتنہ تصویر آپ کے خلاف اٹھایا گیا ہے اس کی تردید میں نے خود اسی طرح کی جیسے آپ نے ماہ جنوری، فروری اور مارچ ۹۹ کے الرسالہ کے ذریعہ کی ہے۔ اس فتنہ میں جو شریک تھے اللہ تعالیٰ ان کو اپنی غلطی کے اعتراف کی توفیق دے۔ مولانا شمس پیر زادہ کے سوال کا جواب پڑھ کر ، قرآن کو صحیح سمجھنے کا موقع ملا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ آپ کی
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues