Prima facie it stands rejected.
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۴۷
علمی قابلیت کو اور زیادہ بڑھایا۔ جس طرح حضرت عائشہؓ افک کے واقعہ سے بری ہوئیں اور مخالف ناکام ہوئے۔ اسی طرح تصویری فتنہ کے بعد آپ کی عزت بڑھی اور سازش کرنے والوں کی بے عزتی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو خاص علم دیا ہے اس کی وجہ سے جو لوگ کسی کی شخصیت پرستی میں ہیں ان کو اچھا نہیں معلوم ہو رہا ہے۔ اب رہے غیر تو ان میں سے بہت سے لوگ آپ کی تحریروں کو پڑھ کر اسلام قبول کر رہے ہیں اور بہت سارے اسلام کے قریب آ رہے ہیں۔ یہ بات کچھ لوگوں کو پسند نہیں اس وجہ سے وہ کچھ نہ کچھ فتنہ کھڑا کر رہے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ہر فتنہ کی جڑ فوری کاٹ رہے ہیں۔ اسکی وجہ سے اسلام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اگر ہمارے علماء کرام اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں تو یہ فتنہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا۔ اگر انھوں نے یہ فریضہ انجام نہیں دیا تو وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے علمائے کرام کو نیک توفیق دے تاکہ اسلام کی اشاعت میں رکاوٹ نہ ہو سکے اور اسلام ترقی کرے۔ (جمال الدین صدیقی، ناندیڑ)
ہندی روزنامہ دینک بھاسکر کے نمائندہ مسٹر ایم جے انصاری نے ۱۰ مارچ ۱۹۹۹ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ مسلمانوں کے لئے حقوق کے تحفظ اور ریزرویشن کی جو تحریک چل رہی ہے اس کے بارہ میں آپ کی کیا رائے ہیں۔ انھوں نے جواب میں کہا کہ مسلمان یا غیر مسلم کوئی بھی تحفظات کے بل پر ترقی نہیں کر سکتا۔ ترقی کا واحد فارمولہ محنت ہے۔ اس دنیا کے لئے خدا کا اٹل قانون یہ ہے کہ ــ جتنی محنت اتنی ترقی ۔ جو لوگ تحفظات کے ذریعہ مسلمانوں کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں وہ گویا فطرت کے قانون سے لڑ رہے ہیں۔ تحفظ اولاً ملنے والا نہیں اور اگر بالفرض مل جائے تب بھی وہ بے فائدہ ہے۔
ٹریسی سیمینار سیریز (Traci Seminar Series) کی طرف سے ۳۰ مارچ ۱۹۹۹ کو کانسٹی ٹیوشن کلب (نئی دہلی) میں ایک سیمینار ہوا۔ اس کا موضوع یہ تھا ریلیجن اینڈ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues