Al-Risala · July 1999 · page 12

Gandhi sacrificed by fanaticism

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۱۲

جہاں تک میں سمجھتا ہوں ، ہماری قومی جدوجہد کے دوسرے مرحلہ کا ناکام رہنا سب سے زیادہ اسی بنا پر ہوا ہے۔ نئے دور کی تعمیری جدوجہد کے لئے دوبارہ متحدہ کوشش درکار تھی۔ چونکہ اس دوسرے مرحلہ میں متحدہ کوشش وجود میں نہ آسکی اس لئے قدرتی طور پر وہ ناکام بھی رہی۔

یہ المیہ کیوں پیش آیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ غالباً یہ ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے جو مشترک جدوجہد جاری ہوئی اس میں ہندوؤں کی طرف سے زیادہ تر سیکولر لوگ شریک تھے۔ یہ ہندو اپنے مزاج کی بنا پر اپنے مذہب یا اپنے مخصوص مذہبی رسوم کو اجتماعی معاملات میں داخل نہیں کرتے تھے۔ اس بنا پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی اجنبیت حائل نہیں ہوتی تھی۔ دونوں کھلے دل کے ساتھ ایک دوسرے سے ملتے تھے اور کسی توحش کے بغیر مل کر کام کرتے تھے۔ یہ ’’سیکولر کلچر‘‘ بنیادی طور پر دونوں فرقوں کے درمیان اتحاد کی طاقتور کڑی بنا رہا۔ آزادی کے بعد جب مہاتما گاندھی کو قتل کر دیا گیا تو اس کے بعد ہندوؤں کا وہ طبقہ ابھرنا شروع ہو گیا جو سیکولرزم کے بجائے ہندتو میں یقین رکھتا تھا۔ یہ لوگ ابتدا میں اتنے محدود تھے کہ آزادی کے بعد جب پہلی پارلیمنٹ بنی تو اس میں ان کے صرف دو ممبر شامل ہو سکے جو جن سنگھ کے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر آئے تھے۔ یہ تعداد دھیرے دھیرے بڑھتی رہی یہاں تک کہ ۱۹۹۸ میں وہ اس پوزیشن میں ہو گئے کہ نئی دہلی کی مرکزی حکومت پر قبضہ حاصل کر لیں۔ ابتدا میں یہ لوگ صرف محدود دائرہ میں اپنا اثر رکھتے تھے مگر دھیرے دھیرے ان کے اثرات ہندو سماج کے بڑے طبقہ تک پھیل گئے۔

۱۹۴۷ سے پہلے جب ہندو اور مسلمان اجتماعی مواقع پر ملتے تھے تو دونوں سیکولر آداب کے تحت ملتے تھے۔ اس بنا پر دونوں کے درمیان کوئی کشیدگی پیدا نہیں ہوتی تھی۔ اب دوسرے دور میں یہ ہوا کہ مسلمان اگر کسی اجتماعی پروگرام میں جاتے تو وہاں ان کو ملاقات کے وقت

‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues

Printed page