Gandhi sacrificed by fanaticism
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۱۳
مصافحہ کرنے کے بجائے دونوں ہاتھ جوڑ کر پر نام کرنے کا ماحول ملتا تھا۔ پروگرام کا آغاز وندے ماترم کے گیت یا سرسوتی دیوی کی وندنا سے ہوتا تھا۔ اسی طرح پروگرام کے شروع میں ہندورسم کے مطابق دیا جلا کر اس کا شبھ آرمبھ کیا جاتا تھا یا سنسکرت اشلوک پڑھے جاتے تھے۔ اس طرح کی بہت سی چیزیں ہیں جو نئے دور کے اجتماعی مواقع پر بھارتیہ سنسکرتی کے نام پر شامل کردی گئیں۔
اس قسم کی تمام چیزیں خواہ دھرم کے نام پر کی جائیں یا سنسکرتی کے نام پر، بہ حال میں وہ مسلمانوں کے لئے صرف دوری کا سبب بن سکتی تھیں، اور واقعہ میں ایسا ہی ہوا۔ اس قسم کے تمام رسوم یا اس طرح کے تمام کلمات قدیم مشرکانہ عقائد پر مبنی ہیں۔ خواہ ان کا کوئی بھی خوبصورت نام دیا جائے مگر ان کے مبنی بر شرک ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمان چونکہ ایک خدا کو مانتے ہیں، اس لئے ان کا موحدانہ مزاج اس قسم کے پروگراموں میں شرکت کے لئے ایک مستقل روک بن گیا۔ ان کے لئے نا ممکن ہو گیا کہ وہ ایسے اجتماعی مواقع پر کھلے دل سے شریک ہو سکیں جس میں بھارتیہ سنسکرتی کے نام پر ان مشرکانہ رسوم کو ادا کیا جا رہا ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آزادی سے پہلے قومی جدوجہد کی جو گاڑی اپنے دو پہیوں (ہندو اور مسلمان) کے ذریعہ چل رہی تھی، وہ اب بڑی حد تک صرف ایک پہیہ (ہندو) کے ذریعہ چلنے لگی۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، کوئی گاڑی جس کے دو پہیوں میں سے ایک پہیہ نکال دیا جائے وہ کھڑی تو ہو سکتی ہے مگر اپنے راستہ پر تیز رفتاری کے ساتھ چل نہیں سکتی۔ چنانچہ قانون فطرت کے تحت ہماری قومی تعمیر کی گاڑی بھی چلتے چلتے اچانک ٹھہر گئی۔ قومی تعمیر کا سارا منصوبہ ناکام ہو کر رہ گیا۔
اب بیسویں صدی کے خاتمہ پر آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے جب کہ ہند و لیڈر شب یہ جان لے کہ دونوں فرقوں کی متحدہ کوشش کے بغیر ملک کی حقیقی تعمیر ممکن نہیں۔ ملکی
‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues