Al-Risala · July 1999 · page 14

Gandhi sacrificed by fanaticism

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۱۴

تعمیر کے معاملہ میں ان حضرات کے سامنے جن دو کے درمیان انتخاب (option) ہے وہ یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ جدوجہد یا مسلمانوں کے بغیر جدوجہد۔ بلکہ ان کے لئے اصل انتخاب دوسری صورتوں کے درمیان ہے، اور وہ ہے۔ ۔۔ مسلمان کے ساتھ جدوجہد یا سرے سے جدوجہد ہی نہیں۔

اس پیچیدہ مسئلہ کا حل کیا ہے۔ وہ حل یہ ہے کہ برادران وطن کی ہندو لیڈر شپ بھی اسی طریقہ کو اختیار کرے جس کو اس سے پہلے ان کی سیکولر لیڈر شپ نے اختیار کیا تھا۔ یعنی وہ چیز جس کو وہ بھارتیہ سنسکرتی کہتے ہیں، اس کو مکمل طور پر اجتماعی پروگراموں اور سرگرمیوں سے الگ کر دیا جائے۔ اگر وہ چاہیں تو اپنے ذاتی دائرہ میں اس کو اختیار کر سکتے ہیں مگر اجتماعی دائرہ کے تمام مواقع سے مکمل طور پر اس کو حذف کر دیا جائے۔ یہی واحد تدبیر ہے جس کے ذریعہ دوبارہ اس ہندو مسلم مشترک جدوجہد کو زندہ کیا جا سکتا ہے۔ ۔۔ جس نے پہلے مرحلہ میں ہماری قومی جدوجہد کو کامیاب کیا تھا اور جو دوسرے مرحلہ میں بھی ہماری قومی جدوجہد کی کامیابی کی واحد ضمانت ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی سماج میں اتحاد ہی تمام ترقیوں کا واحد ضامن ہے۔ جب سماج کے تمام طبقات مل کر کام کرتے ہیں اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ ان کے درمیان وہ متحدہ کوشش وجود میں آئے جو کسی بھی بڑے کام کے لئے ضروری ہے۔

یہ فطرت کا قانون ہے، یہ تاریخ کا فیصلہ ہے۔ اور ہم جتنی جلد اس حقیقت کو جان لیں اتنا ہی اچھا ہے۔ اس حقیقت سے بے خبری یا اس کا عدم اعتراف ایک ایسی تباہ کن غلطی ہو گی جس کو ہماری اگلی نسلیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

اس بات کی وضاحت کے لئے یہاں میں ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں۔ دھلی میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو ہیں۔ وہ لمبی مدت تک ایک بڑی کمپنی میں بزنس منیجر کے طور پر کام کرتے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues

Printed page