Our attitude determines our altitude.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۱۶
اگلے سال یہ کتاب دوبارہ دہلی کی بک فیئر میں رکھی گئی۔ کتاب وہی تھی، صرف اس کا ٹائٹل بدل دیا گیا تھا۔ اس تبدیلی کا نتیجہ نہایت شاندار نکلا۔ لوگ آتے اور کتاب کو ہاتھ میں لے کر اس کو الٹتے پلٹتے اور پھر شوق کے ساتھ اس کو خرید لیتے۔ یہ بک فیئر ایک بین اقوامی نمائش تھی چنانچہ دوسرے ملکوں کے لوگ بھی یہاں آئے ہوئے تھے۔ مصنف نے بتایا کہ اب نہ صرف ہندوستانیوں نے اس کتاب کو خریدا بلکہ پاکستان اور عرب اور دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے لوگوں نے بھی نہایت شوق کے ساتھ اس کو حاصل کیا۔ بک فیئر کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی کتاب کا پورا اسٹاک ختم ہو چکا تھا۔
اب مذکورہ ہندو اور مسلمان دونوں نے مزید کتابیں چھاپی ہیں اور وہ مل کر یہ کام کر رہے ہیں۔ ان کا یہ کتابی بزنس پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ وہ نہ صرف ملکی مارکیٹ میں کامیاب ہیں بلکہ بیرونی ملکوں میں بھی اپنی کتابوں کو بڑی تعداد میں ایکسپورٹ کر رہے ہیں۔
اس واقعہ پر غور کیجئے تو یہ اہم نکتہ معلوم ہو گا کہ اتحاد کس طرح ترقی کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندو مصنف کے پاس تجارتی معلومات کا ذخیرہ تھا مگر اپنے مخصوص مذہبی ذہن کی بنا پر وہ ایک محدودیت کا شکار ہو گئے۔ وہ اس راز کو سمجھ نہ سکے کہ وہ اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر تو گنیش جی کو خود تو مشکل کشائی کا دیوتا سمجھتے ہیں مگر دوسری قوموں اور دنیا کے بیشتر لوگوں کے نزدیک گنیش جی صرف ایک دیومالائی شخصیت ہیں، نہ کہ کوئی حقیقی شخصیت۔
مذکورہ مسلمان اپنی اسلامی تربیت کی بنا پر اس نفسیاتی پیچیدگی سے خالی تھا۔ اس کے نزدیک مشکل کشائی یا تجارتی کامیابی کا تعلق کسی دیوی یا دیوتا سے نہ تھا۔ اس بنا پر وہ اس پوزیشن میں تھا کہ معاملہ پر کھلے ذہن کے ساتھ سوچے، وہ اس کے بارے میں حقیقت پسندانہ رائے قائم
‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues