Al-Risala · July 1999 · page 26

ہندوستان کا سفر

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۲۶

آزادی کے بعد جن لیڈروں کے ہاتھ میں ملک کی قسمت آئی انھوں نے قوم کو غلط ٹرین پر بٹھادیا ۔ ہم کو دووٹ دو تاکہ ہم صحیح ٹرین کے ذریعہ تمہارے ترقیاتی سفر کو جاری کر سکیں۔ ان کے رہ تھ اندولن سے بہت سے لوگ متاثر ہوگئے۔ یہاں تک کہ ۱۹۹۸ تک کے آغاز میں انھیں یہ موقع ملا کہ وہ ملک کی سیاسی قیادت پر قبضہ کرلیں۔

ان نئے لیڈروں نے ہندوستان کو جس نئی ٹرین پر سوار کیا اس کو ایک لفظ میں ہندو تو اکسپریس کہا جاسکتا ہے۔ انھوں نے بڑے بڑے دعوؤں کے ساتھ قوم کو ہندو تو اکسپریس پر بٹھایا اور اس کو فل اسپیڈ کے ساتھ چلادیا۔ مگر صرف ایک سال کے تجربہ کے بعد معلوم ہوا کہ ہندو تو اکسپریس کا سفر اس سے بھی زیادہ تباہ کن ہے جتنا کہ سوشلسٹ اکسپریس کا سفر ثابت ہوا تھا۔ سوشلسٹ اکسپریس کے سفر نے ملک کو اقتصادی اعتبار سے تباہ کیا تھا۔ ہندو تو اکسپریس کے سفر میں مزید نقصان یہ ہوا کہ اعلیٰ انسانی قدریں (human values) بھی تباہ ہو کر رہ گئیں۔ یہ ہندو تو لیڈر شپ راہ روپشت بہ منزل کی ایک مثال ہے۔ وہ آگے کی طرف سفر کرنے کے نام پر قوم کو پیچھے کی طرف دوڑانا چاہتی ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اقبال احمد سہیل مرحوم نے کہا تھا :

آگے ہے قدم پیچھے ہے نظر جاتا ہے کہاں جاتے ہیں کدھر مبہم ہے یہاں خود سمت سفر نیرنگ زمانہ کیا کہیے ہندو تو لیڈر شپ کی سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ وہ اس کمزوری کی شکار ہے جس کو انگریزی میں کنڈیشنڈ تھنکنگ کہا جاتا ہے، یعنی لگے بندھے ذہن کے تحت سوچنا۔ تقریباً سو سال پہلے شری گر گول والکر اور ڈاکٹر ہیڈ گواڑ جیسے ماضی پرست لوگوں نے اپنے محدود ذہن کے تحت انہیں جو سبق دیا تھا وہی ان کو معلوم ہے۔ ان کی سوچ بس اسی کے دائرہ میں چلتی ہے۔ ایسے لوگ صرف یہی کر سکتے ہیں کہ ترقی کے نام پر وہ ملک کو پیچھے دھکیل دیں۔ بدقسمتی سے انھوں نے اپنے محدود اقتدار کے زمانہ میں یہی کارنامہ انجام دیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues

Printed page