Al-Risala · July 1999 · page 27

ہندوستان کا سفر

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۲۷

نام نہاد ہند تو ایجنڈا کیا ہے، وہ ملک کو ماضی کے اندھیرے میں دھکیلنے کا دوسرا نام ہے۔ یہ مفروضات یا تو ہمات کے ذریعہ ملک کے ان مسائل کو حل کرنا ہے جن کے لئے سائنٹفک سوچ اور حقیقت پسندانہ جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر یہ ہند تو لیڈر شپ عجیب و غریب طور پر یہ سمجھتی ہے کہ اسکول کے بچے اگر روندے ماترم جیسے گیت روزانہ صبح کو گائیں یا ریڈیو اور ٹی وی پر ایک پیشہ ور گلوکار اس کو گا کر سنائے تو ملک میں نیشنل اسپرٹ پیدا ہو جائے گی۔ حالانکہ یہ تصور خوش فہمی کی حد تک بے بنیاد ہے۔ صرف یہ حقیقت اس مفروضہ کی تردید کے لئے کافی ہے کہ پچھلی نصف صدی سے یہ گانے اتنی زیادہ بار گائے گئے ہیں کہ شاید ملک کا کوئی بھی شخص نہیں جس کے کانوں تک یہ آواز نہ پہنچی ہو۔ اس کے باوجود نیشنل اسپرٹ کے اعتبار سے ہماری قوم دیوالیۃ پن کی حد تک خالی ہو چکی ہے۔ روندے ماترم گانے والوں سے لے کر اس گیت کو سننے والوں تک تقریبا ہر ایک کی آج یہ حالت ہے کہ ذاتی مفاد اور ملک کے مفاد میں ٹکراؤ ہو تو وہ بلا تکلف ذاتی مفاد کی خاطر ملک کے مفاد کو نظر انداز کر دیوے گاو دیش بھکتی کے ان گیتوں نے عملاً قوم کو صرف خویش بھکت بنایا ہے۔ نہ کہ دیش بھکت۔ حقیقت یہ ہے کہ گیتوں اور بھاشڑوں کے ذریعہ کبھی کسی قوم میں دیش بھکتی یا نیشنل اسپرٹ پیدا نہیں ہوتی۔ اس معاملہ میں عربی کا یہ مثل صادق آتا ہے کہ: الناس علی دین ملو کھم۔ یعنی لیڈر لوگ جو روش اپناتے ہیں اسی روش کو عوام بھی اختیار کر لیتے ہیں۔ ہمارے تقریباً تمام لیڈر کرپشن کلچر کو اپنائے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ نا ممکن ہے کہ عوام محض گیتوں کی بنیاد پر اس کے علاوہ کسی اور کلچر کو اپنائیں ۔ اس معاملہ میں سب سے پہلے خود مسٹر لیڈر کو حقیقی معنوں میں مسٹر کلین بننا پڑے گا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ ملک میں صحت مند روایات قائم ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ صاف ستھر ایڈمنسٹریشن ہی صاف ستھر سماج بناتا ہے۔ جو لیڈر خود بھرشٹا چار میں ڈوبے ہوئے ہوں وہ بھرشٹاچار سے آزاد سماج کبھی نہیں بنا سکتے۔ اسی طرح ہند تو لیڈر شپ کے ایجنڈے میں اور جو چیزیں ہیں، وہ بھی ملکی تعمیر کے اصل

‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues

Printed page