Al-Risala · July 1999 · page 28

ہندوستان کا سفر

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۲۸

مسئلہ سے غیر متعلق ہیں، انگریزی کی جگہ ہندی اور سنسکرت لانا، مسجد توڑنا اور مندر بنانا، دستور کی سیکولر دفعات کو ختم کرنا، علیحدہ پرسنل لا کی جگہ یکساں سول کوڈ نافذ کرنا، ہند ستانیوں کے لئے انڈین کے بجائے ہندو کا لفظ رائج کرنا، وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کی تمام باتیں صرف کٹر پن کی علامتیں ہیں۔ ان کا کوئی بھی تعلق ملک کے وسیع تر قومی مفاد سے نہیں۔

ہند تو ایجنڈا کے علم بردار ایک بے حد اہم حقیقت سے ناواقف ہیں، وہ یہ کہ ہند تو ایجنڈے کے راستہ کی رکاوٹ ملک کا کوئی فرقہ یا گروہ نہیں ہے۔ بلکہ اس ایجنڈے کا اصل مخالف وقت کا عالمی سیلاب ہے۔ آج پوری کی پوری دنیا ہند تو سے مختلف ایک اور سماج کی طرف جا رہی ہے۔ اس نئے عالمی سماج میں ہند تو کا کوئی مقام نہیں۔ حتی کہ اگر نئے عالمی افکار کے نئے سیلاب کو نظر انداز کر کے اپنے ملک میں ایک علیحدہ جزیرہ بنانا چاہیں تو گلوبل ویلج کے اس دور میں وہ کبھی بننے والا نہیں۔ ایسی کوئی کوشش ایک چلتے ہوئے ہاتھی کی دم میں پتنگ باندھنے کے ہم معنی ہے۔ اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ایسی پتنگ کبھی ہاتھی کی دم میں نہیں بندھتی بلکہ وہ ہوا میں اڑ کر رہ جاتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ سوشلسٹ اکسپر لیس یا ہند توا اکسپر لیس دونوں میں سے کوئی بھی ملک کو اس کی منزل پر پہنچانے والی نہیں۔ ہم کو ہماری منزل مقصود تک جو ٹرین پہنچائے گی وہ صرف تعمیر اکسپر لیس ہے نہ کہ کوئی اور اکسپر لیس۔

تعمیر اکسپر لیس سے میری مراد یہ ہے کہ ملک میں تعلیم کو عام کیا جائے۔ فرقہ وارانہ نفرت کی باتیں ختم کی جائیں۔ سیاست میں ووٹ بینک بنانے کی پالیسی کو ترک کیا جائے۔ سرکاری دفتروں سے بھر شٹا چار کا خاتمہ ہو۔ حکومت اپنی پوری طاقت کو استعمال کر کے ملک میں بہترین انفراسٹرکچر وجود میں لائے۔ مذہب کو سیاست سے الگ رکھ کر لوگوں کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنے اپنے دائرہ میں جس مذہب کو چاہیں اختیار کریں، اور قومی پالیسی کو تمام تر سیکولر زم یا عمومی مفاد کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔ دنیا کے جس ملک نے بھی ترقی کی ہے، اس نے اسی تعمیری منصوبہ کو اختیار کر کے ترقی کی ہے۔ ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے لئے بھی اس کے سوا کوئی اور دوسرا طریقہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues

Printed page