Al-Risala · July 1999 · page 29

تعمیر ہند

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۲۹

تعمیر ہند

ہندوستان اپنے رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کے ملکوں میں تیسرا سب سے بڑا ملک ہے ۔ لیکن ترقی کے جدید معیار کے اعتبار سے وہ دنیا کے ملکوں میں ۱۳۸ ویں نمبر پر شمار کیا جاتا ہے۔ شہری سہولتوں کے اعتبار سے وہ دبئی اور سنگاپور جیسے انتہائی چھوٹے ملکوں سے بھی بہت پیچھے ہے ۔ ہندوستان کا یہ حال اس وقت ہے جب کہ اس کی آزادی پر ۵۰ سال سے بھی زیادہ مدت گزر چکی ہے ۔

اس صورت حال کے بے شمار نقصانات ہیں۔ انھیں میں سے ایک بہت بڑا نقصان یہ ہے کہ ملک کے بہترین دماغ بڑی تعداد میں باہر چلے جا رہے ہیں ۔ ہر نوجوان یہ چاہنے لگا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح باہر کے ترقی یافتہ ملکوں میں پہنچ جائے کیوں کہ ہندوستان میں رہ کر وہ ان ترقیاتی سہولتوں کو حاصل نہیں کر پا تا جو دور جدید کے ایک ترقی یافتہ ملک کے شہریوں کو حاصل ہیں۔ ترقی کی دوڑ میں ہندوستان اس قدر پیچھے کیوں ہے۔ غالباً اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں ابھی تک وہ چیز نہ آسکی جس کو جواہر لال نہرو نے نیشنل انٹیگریشن کا نام دیا تھا۔ یعنی ملک کے مختلف گروہوں کے درمیان وہ اتحاد جو اس بات کو ممکن بناتا ہے کہ مختلف گروہ یکجہتی کے ساتھ مل کر کام کریں۔

ہندوستان کے مختلف گروہوں میں سے دو گروہ سب سے بڑے ہیں۔ ہند واور مسلمان۔ انھیں دونوں گروہوں کے اتحاد پر ملک کے مجموعی اتحاد کا انحصار ہے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں اتحاد ہو تو گویا کہ سارا ملک متحد ہو گیا۔ اور اگر ان دو بڑے گروہوں میں اتحاد نہ ہو تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ملک اختلاف و انتشار کا شکار رہے گا اور جو ملک اس طرح داخلی بے اتحادی کا شکار رہے وہ کبھی ترقی کے اعلیٰ درجہ تک نہیں پہنچ سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues

Printed page