تعمیر ہند
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۳۰
ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی اس اہمیت کو مہاتما گاندھی نے نہایت گہرائی کے ساتھ محسوس کیا تھا۔ چنانچہ ۱۹۴۷ میں جب ملک آزاد ہوا تو انھوں نے اس کو اپنی زندگی کا واحد مشن بنا لیا کہ ملک کے دونوں فرقے مل جل کر رہنے لگیں۔ اس وقت انھوں نے اپنے تاریخی الفاظ میں کہا تھا کہ اس ملک کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو امن کے ساتھ اور مل جل کر رہنا ہوگا ورنہ میں اس کوشش میں اپنی جان دے دوں گا۔
Hindus and Musalmans should learn to live together in peace and amity. Otherwise, I should die in the attempt. (P 449)
ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اسی خاص مقصد کے لئے نیشنل انٹیگریشن کونسل بنائی۔ اس کے بعد اس مقصد کے لئے بے شمار کوششیں کی جاتی رہیں جن کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ مگر ۵۰ سال سے بھی زیادہ مدت گزرنے کے باوجود اس مقصد میں ابھی تک شاید ایک فی صد بھی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ ہندو مسلم تعلقات کا معاملہ بدستور ایک بعید خواب بنا ہوا ہے۔ اور اسی کے ساتھ ملک کی مطلوب ترقی بھی۔
کیا وجہ ہے کہ اتنا زیادہ ضروری مقصدی لمبی کوشش کے باوجود بھی تک حاصل نہ کیا جا سکا۔ اس کی وجہ میرے نزدیک صرف ایک ہے، اور وہ ہے ایک ممکن چیز کو ناممکن طریقہ سے حاصل کرنے کی کوشش۔ ہوا سے آکسیجن کا حصول ہر آدمی کے لئے پوری طرح ممکن ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص آکسیجن کو اپنی ناک کے بجائے کان کے ذریعہ لینا چاہے تو یہ انتہائی ممکن چیز بھی اس کے لئے ناممکن ہو جائے گی۔
کوئی سماج، خواہ وہ ایک کلچر کا سماج ہو یا کئی کلچر کا سماج، اس میں ہمیشہ کچھ چیزیں لوگوں کے درمیان مشترک ہوتی ہیں۔ اور کچھ غیر مشترک ۔ یہ فطرت کا ایک لازمی تقاضہ ہے۔ سماجی اتحاد در اصل انھیں دونوں تقاضوں کے درمیان ہم آہنگی کا فارمولا تلاش کرنے کا نام ہے۔ اسی فارمولا کے حصول یا عدم حصول پر اس معاملہ کا انحصار ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues