تعمیر ہند
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۳۱
۱۹۴ سے لے کر اب تک اس رخ پر کی جانے والی کوششوں کی ناکامی کا اصل سبب یہی ہے کہ حقیقی اتحاد کا کوئی فارمولا ابھی تک دریافت نہ کیا جاسکا۔ اور جو فار مولا دریافت کیا گیا وہ سرے سے قابلِ عمل ہی نہ تھا۔
۱۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلا فارمولا وہ ہے جس کی پشت پر مہاتما گاندھی، ڈاکٹر بھگوان داس، ونوبا بھاوے جیسے بڑے بڑے لوگوں کے نام ہیں۔ اس فارمولے کو مختصر الفاظ میں مہاتما گاندھی نے اس طرح بیان کیا تھا۔ رام رحیم ایک ہے۔ ان لوگوں نے یہ سمجھا کہ مذہبوں کا الگ الگ ہونا یہی علیحدگی کا ذہن پیدا کرتا ہے۔ اس لئے اگر تمام مذہبوں کو ایک ثابت کر دیا جائے تو یہ اختلاف اپنے آپ مٹ جائے گا۔ اور لوگوں کے اندر وہ جذباتی ہم آہنگی پیدا ہو جائے گی جو مطلوب ہے۔
مگر یہ نظریہ اصل مسئلہ کا معصومانہ حد تک کمتر اندازہ تھا۔ ان حضرات نے یہ کہا کہ مختلف مذاہب کی چند منتخب تعلیمات کو لے کر یہ سمجھ لیا کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔ مگر مطالعہ کا یہ طریقہ یقینی طور پر غیر سائنٹفک ہے۔ کسی مذہب کے بارے میں کوئی رائے اس کی مجموعی تعلیمات کی روشنی میں قائم کی جائے گی نہ کہ صرف منتخب تعلیمات کی روشنی میں۔ اور جب مجموعی تعلیمات کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہندوازم اور اسلام میں کھلا ہوا اختلاف موجود ہے۔
مثلاً ہندو مذہب میں حقیقت اعلیٰ کے بارے میں وحدتِ وجود (monism) کا تصور ہے اور اسلام میں توحید (monotheism) کا۔ ہندوازم میں خدا کی تجسیم یا اوتار کا تصور ہے اور اسلام میں خدا کے فرستادہ پیغمبر کا تصور۔ ہندو مذہب میں انسانی زندگی کے بارے میں آواجمن کا تصور ہے اور اسلام میں پہلی ہی موت کے بعد جزاو سزا کا تصور، وغیرہ۔ اعتقادیات کا یہ فرق اتنا زیادہ بنیادی ہے کہ اگر مذکورہ فارمولے کو اتحاد کا وسیلہ سمجھا جائے تو مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان کبھی اتحاد ممکن نہ ہوگا۔ مہاتما گاندھی
‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues