تعمیر ہند
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۳۲
اور ان کے جیسے دوسرے لوگوں نے اتحاد کا جو فارمولا وضع کیا اس کو ایک لفظ میں باہمی اعتراف (mutual recognition) کا فارمولا کہا جا سکتا ہے۔ مگر یہ فارمولا حقیقت پر مبنی نہیں، اس لئے وہ قابلِ عمل بھی نہیں۔
مذہب ایک مقدس عقیدہ کا نام ہے، مذہب میں ترمیم ممکن نہیں اس لئے ہمیں مذہب کو جیسا ہے ویسا (as it is) ہی ماننا ہوگا، ہمیں سماجی اتحاد کا ایک ایسا فارمولا دریافت کرنا ہو گا جو مذہب ہی تبدیلی کے بغیر قابلِ عمل اور قابلِ اختیار ہو۔
خوش قسمتی سے یہ قابلِ عمل فارمولا پیشگی طور پر ہمارے یہاں موجود ہے۔ اس دوسرے فارمولے کو مختصر طور پر باہمی احترام (mutual respect) کا فارمولا کہا جا سکتا ہے۔ جن ترقی یافتہ ملکوں (مثلاً امریکہ اور کناڈا) کے سماج میں اختلافات کے باوجود مذہی جھگڑے نہیں ہیں وہاں اسی دوسرے فارمولے کو اختیار کر کے ان جھگڑوں کو ختم کیا گیا ہے۔ ان ملکوں میں بھی مختلف مذاہب کے لوگ موجود ہیں۔ مگر وہاں انھوں نے غیر ضروری طور پر یہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی کہ میرا اور تمہارا مذہب ایک ہے۔ اس کے بجائے انھوں نے انگریزی مثل کے مطابق، اس اصول کو استعمال کیا کہ آؤ، ہم اس پر اتفاق کر لیں کہ ہمارے درمیان اختلاف ہے: Let us agree to disagree یہ فارمولا کوئی انوکھا فارمولا نہیں۔ یہ فطرت کے اٹل اصول پر مبنی ہے۔ وسیع تر مطالعہ بتاتا ہے کہ اس دنیا کے ہر شعبہ میں تعدد کا اصول ہے نہ کہ توحد کا۔ اسی حقیقت کا اعتراف شری گروگولو اگر نے اپنے ایک انٹرویو میں ان الفاظ میں کیا تھا کہ فطرت یکسانیت سے نفرت کرتی ہے (nature abhors uniformity) سوامی وویکا نند نے بھی اس حقیقت کا اعتراف اس طرح کیا کہ انھوں نے کہا کہ مذہبوں کے اختلاف کو مٹانا ممکن نہیں اس لئے تم کو ایسا کرنا چاہئے کہ ایک کی پیروی کرو اور کسی سے نفرت نہ کرو (follow one,and hate none)
‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues