Al-Risala · July 1999 · page 33

تعمیر ہند

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۳۳

اسی فطری اصول کو اہل مغرب نے اختیار کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے درمیان فوراً ہی سماجی اتحاد قائم ہوگیا۔ اور وہ ترقی کی طرف تیزی سے سفر کرنے لگے۔ اگر وہ لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے کہ میرا اور تمہارا مذہب ایک ہے تو اس کے بعد ان کے یہاں جو چیز آتی وہ باہمی اتحاد نہ ہوتا بلکہ باہمی جھگڑا ہوتا۔ اور پھر وہ بھی اسی طرح ایک پس ماندہ ملک بنے رہتے جیسا کہ ہمارا ملک ہندوستان ہے۔

اختلاف فطرت کا ایک اٹل اصول ہے۔ اختلافات کو ختم کرنا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں۔ اس لئے سماجی اتحاد کا قابلِ عمل فارمولا صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے ۔ اختلاف کے باوجود اتحاد۔ جو لوگ اختلاف کو مٹا کر اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں وہ حقیقت سے لڑرہے ہیں۔ اور حقیقت سے لڑ کر جیتنا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں۔

۲۔ اس سلسلہ میں دوسرا فارمولا وہ ہے جو گرو و گولوالکر اور ان کے ہم خیال لوگوں نے پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں مختلف گروہوں کے درمیان اتحاد صرف اس وقت پیدا ہو سکتا ہے جب کہ ان کے اندر سچی حب الوطنی (patriotism) پیدا کی جائے۔ بجائے خود یہ بات درست ہے کہ حب الوطنی کا جذبہ کسی ملک کے باشندوں کے لئے اتحاد کا نہایت طاقتور ذریعہ ہے۔ لیکن حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے جو فارمولا گرو و گولوالکر اور ان کے جیسے لوگوں نے پیش کیا وہ دوبارہ ایک نا قابلِ عمل فارمولا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نصف صدی سے زیادہ مدت تک اس کی لفظی دھوم مچانے کے باوجود عملاً وہ کسی بھی درجہ میں کامیاب نہ ہو سکا۔ گرو و گولوالکر اور ان کے ہم خیال لوگوں کا کہنا ہے کہ سچا محب وطن صرف وہ ہو سکتا ہے جو ملک (بھارت) کو مقدس سمجھے۔ ان کے نزدیک ہندو اس ملک کو مقدس سمجھتے ہیں اس لئے وہی سچے محب وطن ہیں۔ مسلمان اپنے عقیدۂ توحید کی بنا پر کسی ملک کو مقدس نہیں سمجھتے اس لئے وہ سچے محب وطن نہیں بن سکتے۔ اس مسئلہ کا حل انھوں نے یہ بتایا کہ مسلمانوں کو بھی اسی معنی میں محب وطن بنایا جائے جس معنی میں ہندو محب وطن ہیں۔ اس کے بغیر ملک میں حب الوطنی کی صحیح

‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues

Printed page