Al-Risala · July 1999 · page 34

تعمیر ہند

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۳۴

فضا پیدا نہیں ہو سکتی۔

یہ نظریہ سراسر بے بنیاد ہے۔ وہ ایک خود ساختہ مفروضہ پر قائم ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ اپنی ماں سے محبت صرف ہندو کر سکتا ہے۔ کیوں کہ وہ اپنی ماں کو ایک مقدس دیوی کے روپ میں دیکھتا ہے۔ مسلمان چونکہ اپنی ماں کو مقدس دیوی نہیں سمجھتا اس لئے وہ ماں سے محبت بھی نہیں کر سکتا۔ یہ بات بلاشبہ غلط ہے۔ اس لئے کہ ماں سے محبت ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان کے اندر لازمی طور پر ہوتا ہے، خواہ وہ ایک مذہب کو ماننے والا ہو یا دوسرے مذہب کو ماننے والا۔ ماں سے محبت پیدا کرنے کے لئے اس کی ضرورت نہیں کہ کوئی شخص اس کے بیٹے اور بیٹی کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرے کہ تمہاری ماں ایک مقدس دیوی ہے۔ تم جب تک اس کو مقدس دیوی نہیں مانو گے، تم اس سے محبت بھی نہیں کر سکو گے۔

ٹھیک یہی معاملہ وطن کا ہے۔ وطن سے محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو ہر انسان میں لازمی طور پر ہوتا ہے۔ کسی آدمی کا نظریہ یا مذہب خواہ کچھ بھی ہو، وہ پیدائشی طور پر مجبور ہے کہ جہاں وہ پیدا ہوا اور جہاں وہ پلا بڑھا ہے، اس سے وہ محبت کرے۔ یہ محبت اپنے آپ آدمی کے دل میں ہوتی ہے، اس کے لئے کسی بیرونی کوشش کی ضرورت نہیں۔

دنیا میں تقریبا دو سو ملک پائے جاتے ہیں۔ ہر ملک کے لوگ اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب ذاتی انٹرسٹ اور ملکی انٹرسٹ میں ٹکراؤ ہو تو وہ اپنے انٹرسٹ کو پیچھے رکھتے ہیں اور ملکی انٹرسٹ کو آگے۔ حالانکہ ان میں سے کسی بھی ملک کے باشندے اپنے ملک کو دیوی دیوتا کا درجہ نہیں دیتے۔ یہی حب الوطنی کا عالمی اصول ہے۔ ہمیں بھی اسی اصول کو اختیار کرنا چاہئے۔ ہندوستان میں حب الوطنی کا کوئی الگ جزیرہ نہیں بنا سکتے۔ اس قسم کی غیر حقیقی کوشش ملک کو تباہ تو کر سکتی ہے مگر ملک کی ترقی میں وہ ہرگز معاون نہیں ہو سکتی۔ اسی نظریہ کو کچھ لوگوں نے ایک خوبصورت نام دیا ہے جس کو وہ کلچرل نیشنلزم کہتے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues

Printed page