Al-Risala · July 1999 · page 35

تعمیر ہند

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۳۵

ہیں۔ یہ لوگ ہندوستان کے اکثریتی فرقہ کے کلچر کو ملکی کلچر بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ملک کے تمام باشندوں کے لئے ضروری ہے کہ اس کلچر کو اختیار کریں ورنہ ملک میں نیشنل اسپرٹ پیدا نہیں ہو سکے گی۔

یہ نظریہ بھی سراسر غیر علمی اور غیر فطری ہے۔ وہ دنیا میں کہیں بھی رائج نہیں اور نہ ہندوستان میں اس کو قائم کیا جاسکتا ہے۔

قومیت یا نیشن ہڈ کا تعلق صرف ہندوستان سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق تمام ملکوں سے ہے۔ اس کا ایک متفقہ عالمی نظریہ ہے۔ ہمیں بھی اس معاملہ میں وہی اصول اختیار کرنا ہے جو عالمی سطح پر رائج ہے۔ اس معاملہ میں ہم خود ساختہ طور پر کوئی علیحدہ اصول اختیار نہیں کر سکتے۔ تمام قوموں کے متفقہ اصول کے مطابق، قومیت یا نیشن ہڈ کی بنیاد وطن (motherland) پر ہے۔ اسی اصول پر تمام دوسرے ملکوں میں قومیت کی تشکیل ہوئی ہے۔ ان ملکوں کے باشندوں میں نیشنل اسپرٹ پوری طرح موجود ہے۔ حتی کہ شاید ہندوستانیوں سے بہت زیادہ۔ گلوبل ولیج اور اقوام متحدہ کے اس دور میں ہم اپنا کوئی علیحدہ سیاسی گھروندا نہیں بنا سکتے۔ اور اگر بنانے کی کوشش کی گئی تو اس کے لئے پیشگی طور پر مقدر ہے کہ وہ ناکام ہو کر رہ جائے۔ اس نظریہ کے ماننے والوں کی کوشش یہ ہے کہ وہ ملک کے تمام باشندوں کو سرسوتی دیوی کی وندنا کرائیں اور اسکول کے تمام طلبہ کو وندے ماترم کے گیت میں شامل کریں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح اس کلچرل نیشنلزم کو لانے میں مدد ملے گی جس کے بغیر ان کے نزدیک ہندوستان میں قومیت کی تشکیل ممکن نہیں۔ یہ بھی بلاشبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مثال کے طور پر سرسوتی کو علم کی دیوی سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ سرسوتی کی وندنا سے علم اور تعلیم کو فروغ حاصل ہوگا۔ مگر واقعات اس کی کامل تردید کرتے ہیں۔ ہندوستان میں سرسوتی کا گیت پچاس سال سے بھی زیادہ مدت سے گایا جارہا ہے۔ مگر یہاں ابھی تک کوئی قابل لحاظ علمی ترقی نہ ہو سکی۔ اس کے برعکس دور جدید کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues

Printed page