Al-Risala · July 1999 · page 36

تعمیر ہند

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۳۶

وہ ممالک جن کو ترقی یافتہ ممالک کہا جاتا ہے وہاں کے اسکولوں اور تعلیم گاہوں میں کسی علم کی دیوی کا گانا نہیں گایا جاتا۔ پھر بھی وہ، ہم سے اتنا زیادہ آگے ہیں کہ ہم شاید ان کے پیچھے بھی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سرسوتی یا وندے ماترم مذہبی عقیدہ کی چیزیں ہیں۔ ان کا دنیوی شعبوں سے کوئی تعلق نہیں۔ کوئی شخص یا گروہ ذاتی عقیدہ کے طور پر ان کو اختیار کر سکتا ہے مگر وسیع تر اجتماعی زندگی میں ان کو داخل کرنا اور تمام لوگوں پر ان کو نافذ کرنے کی کوشش کرنا غیر فطری بھی ہے اور نا ممکن بھی۔ اس طرح کی کوشش کا کوئی فائدہ تو نہیں ہوگا، البتہ جھگڑوں میں اضافہ کر کے اصل مطلوب مقصد کا حصول مزید دشوار ہو جائے گا۔

اگر ہم ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانا چاہتے ہیں تو اس کی واحد صورت یہ ہے کہ مذہبی عقیدہ کو لوگوں کا انفرادی معاملہ قرار دے کر ہر ایک کو اس کی آزادی دے دی جائے۔ اور جہاں تک اجتماعی معاملات کا تعلق ہے اس کو سیکولر بنیاد پر قائم کیا جائے۔ دوسرے ترقی یافتہ ملکوں نے اسی اصول کو اختیار کر کے ترقی کی ہے۔ ہندوستان بھی اسی اصول کی بنیاد پر ترقی کر سکتا ہے۔ اس کے سوا دوسرا کوئی بھی راستہ مفید یا قابل عمل نہیں۔

وندے ماترم، سرسوتی کا گیت یا اس طرح کی اور چیزیں کسی مذہب کے خلاف ہوں یا نہ ہوں مگر یہ یقینی ہے کہ وہ ترقی کے خلاف ہیں۔ وہ مستقبل کی مطلوب تعمیر میں فیصلہ کن رکاوٹ ہیں۔ ہمارے موجودہ لیڈروں کے لئے عقل مندی یہ ہے کہ وہ اس قسم کی چیزوں کو اپنے ذاتی عقیدہ تک محدود رکھیں۔ ان کو ملک کی قومی زندگی یا اجتماعی شعبوں میں داخل کرنے پر اصرار نہ کریں۔ اگر انہوں نے خود سے ایسا نہ کیا تو ملک کی اگلی نسلیں جبر اُن چیزوں کو پیچھے دھکیل دیں گی۔ وہ ان کو چھوڑ کر خالص سیکولر بنیاد پر ملک کی تعمیر کریں گی۔ کیونکہ ترقی اس ملک کے ہر انسان کا سب سے بڑا مطلوب ہے۔ اور ایسی مطلوب چیز کے بارے میں انسان کبھی سمجھوتہ کرنے پر راضی نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues

Printed page