Al-Risala · July 1999 · page 37

تعمیر ہند

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۳۷

یہ واقعہ مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں ہو چکا ہے۔ وہاں کا مذہبی طبقہ پہلے مذہبی رسومات و عقائد کو سیکولر شعبوں سے جوڑے ہوئے تھا۔ اس کے نتیجے میں ان کی ترقی صدیوں تک رکی رہی یہاں تک کہ وہاں کے عوام نے بغاوت کر کے ان مذہبی زنجیروں کو توڑ دیا۔ اس کے بعد ترقی کی طرف ان کا سفر بے روک ٹوک شروع ہو گیا۔

یہ باغیانہ تحریک ہندوستان میں بھی شروع ہو چکی ہے۔ اس کی ایک علامتی مثال یہ ہے کہ ہماری نئی نسل جو اسکولوں اور کالجوں میں پڑھ رہی ہے وہ نمستے یا نمسکار کہنے کے بجائے ہائے اور ہیلو کہنے لگی ہے۔ ایسی حالت میں ہندوستانی لیڈروں کو چاہیے کہ وہ اس تبدیلی کو اختیارانہ طور پر قبول کر لیں جس کو انھیں مستقبل میں مجبورانہ طور پر قبول کرنا پڑے گا، کیونکہ عوامی بغاوت کا مقابلہ کرنے کی طاقت کسی کے اندر بھی نہیں۔

آخری بات

۱۹۴۷ سے پہلے ہندوستان کی سیاسی آزادی کی جو پرجوش تحریک اٹھی اس کے ساتھ کس قسم کی بڑی بڑی امیدیں شامل تھیں اور کیسے رومانی خیالات کے سایہ میں وہ آگے بڑھ رہی تھی، اس کا اندازہ ایک شعر سے ہوتا ہے۔ ایک شاعر انقلاب کا یہ شعر اس زمانہ میں ہر گاؤں اور ہر شہر میں گونج رہا تھا:

آج ہمالہ کی چوٹی سے پھر ہم نے للکارا ہے دور ہٹواے دنیا والو ہندوستان ہمارا ہے۔ مگر آزادی ملنے کے بعد جلد ہی یہ سارا جوش و خروش جاتا رہا۔ آج ملک کے اہل فکر عام طور پر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہماری ہمالیائی تحریک نے ملک سے بیرونی قوم کے سیاسی غلبہ کو تو ختم کیا مگر اس کے جلد ہی بعد بیرونی قو میں اپنی تہذیبی برتری اور اقتصادی طاقت کی بنا پر دوبارہ ہندوستان میں داخل ہو گئیں ۔ آج ہر شعبہ میں دوبارہ انھیں کا غلبہ ہو گیا ہے۔ دستوری اعتبار سے ملک کی قومی زبان ہندی ہے مگر عملی طور پر ملک میں جس زبان کا راج ہے وہ ہندی نہیں ہے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues

Printed page