تعمیر ہند
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۳۸
بلکہ انگریزی ہے۔
اسی طرح آج ہندوستان کے سماج میں مغربی کلچر تیزی سے چھایا جا رہا ہے۔ یہاں کی مارکیٹ پر بیرونی کمپنیاں اپنی برتر حیثیت کے ساتھ داخل ہو گئی ہیں۔ یہاں کا پریس اور یہاں کا میڈیا ان کا خادم بنتا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ یہاں کی سیاست بھی بالواسطہ طور پر انھیں کے زیر اثر کام کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔
یہ المناک واقعہ ہندوستانی لیڈر شپ کی ایک عظیم کو تاہی کو بتاتا ہے۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے یہ لوگ ملک کے مسئلہ کو ہندوستانی ورسس انگریز (ہندوستانی بمقابلہ انگریز) کا مسئلہ سمجھ رہے تھے۔ وہ یہ سمجھے ہوئے تھے کہ انگریزوں کے سیاسی اقتدار کا خاتمہ ملک کی عظمت کو قائم کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ مگر اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ مسئلہ ہندوستان ورسس برٹش راج نہ تھا بلکہ وہ ہندوستان ورسس عالمی سیلاب تھا۔ پہلے تصور کے تحت یہ مسئلہ بظاہر طاقت ور ہندوستان کے مقابلہ میں کمزور انگریز کا مسئلہ تھا۔ مگر دوسرے پہلو سے یہ مسئلہ کمزور ہندوستان بمقابلہ طاقتور عالمی سیلاب بن گیا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ ۱۹۴۷ء میں نشانہ کے مطابق سیاسی آزادی حاصل کرنے کے باوجود ہندوستان بدستور بیرونی طاقتوں کے مقابلہ میں مغلوب بنا ہوا ہے۔
یہی معاملہ اس مسئلہ کا بھی ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا۔ قدیم مسئلہ کو ایک لفظ میں آزادی سے تعبیر کیا گیا تھا، اب جدید مسئلہ کو ایک لفظ میں ہند تو سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ مگر ہند تو آندولن کی لیڈر شپ دوبارہ وہی غلطی کر رہی ہے جو آزادی آندولن کی لیڈر شپ نے کی تھی۔ ہماری قدیم لیڈر شپ نے معاملہ کو دو ایسے فریقوں کے درمیان کا معاملہ فرض کر لیا تھا جس میں وہ بظاہر طاقتور دکھائی دے رہے تھے۔ اور فریق ثانی کمزور نظر آتا تھا جب کہ معاملہ اس کے برعکس تھا۔ اسی طرح ہند تو لیڈر شپ اپنے معاملہ کو ہند و ورسس مسلم معاملہ سمجھ رہی ہے۔ اس تقسیم میں اس کو یہ سارا معاملہ اکثریتی فرقہ اور اقلیتی فرقہ کے درمیان کا معاملہ نظر آتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues