عملی حالات کی رعایت
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۳۷
جواب
صلّی کا مطلب نماز پڑھنا نہیں ہے بلکہ نماز ادا کرنا ہے۔ اسی طرح اقام کا مطلب نافذ کرنا نہیں ہے بلکہ حسن وخوبی کے ساتھ انجام دینا ہے۔ اس طرح اقام کا مطلب بھی وہی ہے جو صلّی کا مطلب ہے۔ البتہ اقام کے لفظ میں اہتمام کے ساتھ ادائیگی کا مفہوم شامل ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک غیر علمی اعتراض ہے۔ قرآن میں نماز کا حکم صرف اقام کے لفظ کے ساتھ نہیں آیا ہے بلکہ مختلف الفاظ کے ساتھ آیا ہے۔ مثلاً صلّی، حافظ، وغیرہ۔ ان الفاظ کے لغوی معنی میں تھوڑا تھوڑا فرق ہے۔ مگر سب کا مشترک مفہوم یہ ہے کہ نماز کو پورے اہتمام کے ساتھ ادا کیا جائے۔ قرآن میں اقام کے سوا جن الفاظ کے ساتھ نماز کا حکم آیا ہے ان میں سے کچھ کے حوالے یہ ہیں: القیامہ ۳۱، العلق ۱۰، الکوثر ۲، المعارج ۲۲، المدثر ۴۲، النساء ۱۰۲، البقره ۲۵، البقره ۱۵۳ البقره ۲۳۸ وغیرہ۔ احادیث میں بار بار نماز کا ذکر لفظ اقامت کے بغیر آیا ہے۔ تاہم صل کا مطلب بھی عین وہی ہے جو اقُم الصلاۃ کا ہے۔ اقامت کا لفظ دراصل برائے وضاحت ہے ۔ اسی طرح قرآن میں دوسرے وضاحتی الفاظ بھی آئے ہیں مثلاً محافظت یا خشوع وغیرہ۔ ان سب کا مطلب یہ ہے کہ نماز کو پوری پابندی کے ساتھ اور ظاہر و باطن کے اعتبار سے اس کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے ادا کیا جائے۔ نماز کو اس کے ظاہر اور اس کے باطن دونوں کے اعتبار سے انجام دیا جائے۔ یہی مطلب ہے نماز کی اقامت کا۔ نماز ثابت شدہ طور پر ایک عبادتی فعل ہے۔ اسلام میں نظم و نسق اور احکام کی تعمیل بھی ہے۔ مگر ان چیزوں کا حکم دوسری آیات سے نکلتا ہے نہ کہ نماز کی آیات سے۔ قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ جن آیتوں میں اقامت کا لفظ آیا ہے وہاں بھی نماز قائم کرنے کا حکم ہے نہ کہ کچھ اور قائم کرنے کا۔ اس لئے ان آیتوں میں بھی
‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues