پیغام عمل
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۴۳
جو گروہ اس قسم کی نفسیات میں مبتلا ہو وہ کبھی کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے سکتا۔ بڑا کارنامہ انجام دینے کے لئے اقدامی نفسیات درکار ہوتی ہے نہ کہ دفاعانہ نفسیات۔ خوش قسمتی سے اس ملک میں وہ اسباب اور مواقع پوری طرح موجود ہیں جو مسلمانوں کو دفاعانہ مقام سے اٹھاکر اقدامی سطح پر پہنچادیں۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ مواقع کو جانیں اور ان کو بھر پور طور پر استعمال کریں۔
مسلمانوں کو مظلومانہ پوزیشن سے اٹھ کر اقدامی پوزیشن تک پہنچنے کے لئے کیا کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں پہلا کام یہ ہے کہ اس رکاوٹ کو درمیان سے ہٹادیا جائے جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے لئے بڑے پیمانہ پر میل جول میں حائل ہیں۔ وہ ہے ملک کی اجتماعی سرگرمیوں میں بھارتیہ سنسکرتی کو غیر ضروری طور پر داخل کرنا۔ مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ حکیمانہ جدوجہد کے ذریعہ برادرانِ وطن کو اس پر راضی کریں کہ وہ اپنی قدیم سنسکرتی کو صرف اپنے ذاتی دائرے میں محدود رکھیں ، وہ اس کو اجتماعی پروگراموں یا سماجی سرگرمیوں میں دخیل نہ کریں۔ جس دن ایسا ہو گا اسی دن اپنے آپ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان انٹر ایکشن بڑھ جائے گا اور وہ مشترکہ جدوجہد وجود میں آجائے گی جس میں دونوں فرقے مل کر ہندوستان کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کریں۔ جب یہ واقعہ پیش آئے گا تو اس کے بعد خود قانونِ فطرت کے تحت ایسا ہونے لگے گا کہ جو مسلمان کے پاس ہے وہ اس کو ہندوؤں تک پہنچائیں گے۔ اور جو ہندوؤں کو حاصل ہے اس کے ثمرات مسلمانوں تک پہنچنے لگیں گے۔ اس مشترکہ عمل کے نتیجہ میں اپنے آپ ایک نیا کلچر ابھرے گا۔ نئی زندگی کی تشکیل پائے گی۔ اس کے بعد اپنے آپ ایک نیا نظام بنے گا جو ہندو اور مسلمان دونوں کے لئے مفید ہوگا۔
اس تاریخی عمل کو ظہور میں لانے کے سلسلہ میں دونوں ہی فرقوں کی اہم ذمہ داریاں ہیں۔ ہندو فرقہ کو یہ جاننا ہوگا کہ وہ کسی انسانی گروہ سے تو لڑ سکتا ہے مگر وہ فطرت سے
‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues