پیغام عمل
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۴۴
نہیں لڑ سکتا۔ بھارتیہ سنسکرتی کو ملک کی اجتماعی زندگی میں شامل کرنے کا منصوبہ اصلاً کسی انسانی گروہ کے خلاف نہیں۔ وہ فطرت اور تاریخ اور عالمی رجحان کے خلاف ہے۔ اس بنا پر وہ یقینی طور پر ناقابل عمل ہے۔
میں ایک بار مہاراشٹر کے ایک شہر میں گیا وہاں ایک ہندو اور ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ دونوں کے درمیان پہلے دوستی تھی ، اس کے بعد دونوں میں ایک خاص مسئلہ میں نزاع ہو گئی۔ مہینوں کی کوشش کے باوجود جب یہ نزاع ختم نہ ہوئی تو ہندو نے مسلمان سے کہا کہ آؤ، ہم اپنے اختلاف کو بازو میں رکھ دیں اور بقیہ امور میں مل جل کر کام کریں۔ اسی قسم کا ایک قصہ بمبئی میں پیش آیا۔ یہاں ایک مسلمان اور ایک یہودی کے درمیان تجارتی اشتراک ہوا۔ یہودی نے پہلے ہی دن اپنے مسلم پارٹنر سے کہا کہ دیکھو میرے اور تمہارے درمیان تجارتی معاملات میں کوئی اختلاف نہیں۔ البتہ ایک مسئلہ ایسا ہے جس میں میرے اور تمہارے درمیان اتفاق نہیں، وہ اسرائیل کا مسئلہ ہے۔ میں اور تم دونوں یہ طے کر لیں کہ ہم اسرائیل کے مسئلہ پر کبھی بات نہیں کریں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہودی اور مسلمان کا یہ تجارتی اشتراک نہایت کامیاب رہا۔ ہندوستان کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو وسیع تر اعتبار سے اسی فارمولے کو اختیار کرنا ہے۔ دونوں کے درمیان یہ امر مشترک ہے کہ ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنایا جائے۔ اس کے بعد جو چیز اختلاف کی ہے وہ صرف یہ ہے کہ اس تعمیری عمل میں غیر ضروری طور پر بھارتیہ سنسکرتی کو شامل کیا جائے۔ اب ہندو فرقہ کو یہ کرنا ہے کہ وہ بھارتیہ سنسکرتی کو اپنے ذاتی دائرہ تک محدود رکھے۔ اس معاملہ میں ہندو فریق اگر اس تفریق پر راضی ہو جائے تو اس کے متحدہ عمل کے لئے تمام دروازے پوری طرح کھل جائیں گے۔
ایسا ہونا بے حد ضروری ہے۔ اس کے بغیر ہندو مسلم تعلقات صرف نو پرابلم ہندوؤں تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔ وہ پرابلم ہندوؤں تک وسیع نہ ہو سکیں گے۔ جب کہ پرابلم ہندوؤں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues