Al-Risala · July 1999 · page 45

پیغام عمل

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۴۵

کو شریک کے بغیر ملکی تعمیر کی کوئی بڑی جدوجہد زیر عمل نہیں لائی جاسکتی۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، انھیں بھی صرف ایک کام کرنا ہے۔ وہ یہ کہ ہندوستان میں ہندو فرقہ اکثریت میں ہے اس بنا پر فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ معاملات پیش آتے ہیں جن کو اب تک تعصب اور زیادتی کی اصطلاحوں میں بیان کیا جاتا رہا ہے۔ اس طرح کے واقعات ہر سماج میں اور ہمیشہ پائے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ ان واقعات کو چیلنج کے روپ میں لیں۔ وہ ان کو کسی مخصوص فرقہ کی کارروائی سمجھنے کے بجائے فطرت کے نظام کے تحت پیش آنے والا واقعہ سمجھیں۔

مطالعہ بتاتا ہے کہ کسی واقعہ کو ظلم سمجھنے سے شکایت کا مزاج بنتا ہے۔ اس کے برعکس جب واقعہ کو چیلنج سمجھا جائے تو خود فطری قانون کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ انسان کی صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں۔ اس کی خفیہ قابلیت (latent potential) ظہور میں آنے لگتی ہے۔ پہلے اگر وہ صرف ایک انسان تھا تو اب وہ سپر انسان (superman) بن جاتا ہے۔ اس طرح وہ اس قابل بن جاتا ہے کہ اپنی بڑھی ہوئی استعداد کے ساتھ چیلنج کا مقابلہ کر کے کامیابی سے دوچار ہو۔ یہی وہ مخصوص مقام ہے جہاں لمبے تاریخی عمل کے بعد ہند اور مسلمان دونوں پہنچے ہیں۔ اب بہترین عقل مندی یہ ہے کہ بیسویں صدی کے خاتمہ کے ساتھ قدیم غیر فطری پالیسی کو ختم کر دیا جائے۔ تاکہ جب آنے والی صدی کا سورج طلوع ہو تو وہ ہمارے لئے ایک نئے اور بہتر ہندوستان کی خوش خبری کے ہم معنی بن جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues

Printed page