Al-Risala · July 1999 · page 46

ایک سیاسی جائز ہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۴۶

ایک سیاسی جائز ہ

1947 سے پہلے ہندوستان میں مسلم قائدین نے جو تحریکیں چلائیں وہ وسیع تر تقسیم میں دو تھیں۔ ایک کو عام فہم زبان میں اتحادِ ہند کی تحریک اور دوسری کو تقسیم ہند کی تحریک کہہ سکتے ہیں۔ بظاہر یہ دونوں تحریکیں ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ دونوں کے اندر ایک مشترک خامی موجود تھی۔ اور وہ تھی حقیقی حالات کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ نہ کرنا۔

جن قائدین نے اتحادِ ہند کی تحریک چلائی وہ سارے معاملے کو انگریز اور ہندوستانی کا مسئلہ سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ سارے مسئلے کی جڑ انگریز ہے۔ ہندو اور مسلمان دونوں ایک جان دو قالب ہیں۔ ان کے درمیان جھگڑے کا کوئی امکان ہی نہیں۔ یہ صرف انگریز ہیں جنھوں نے ایک کو دو میں بانٹ کر لڑا رکھا ہے۔ اسی تصور کو اقبال احمد سہیل نے 1947 سے پہلے ان الفاظ میں نظم کیا تھا۔

یوں شیشہ و ساغر ٹکرائیں منہ دیکھتے میکش رہ جائیں اس فن کو جہاں میں اور کوئی جز ساقی دانا کیا جانے یہ اصل صورت حال کا نہایت سرسری اندازہ تھا۔ بیسویں صدی کے آغاز ہی میں مختلف اسباب سے برادرانِ وطن میں ہندو انتہا پسندی کی تحریک شروع ہو گئی تھی جو دن بدن طاقتور ہوتی چلی گئی۔ 1947 سے پہلے یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد یقینی طور پر مسلمانوں کو ایک شدید تر خطرہ پیش آئے گا۔ یہ ہندو قوم پرستی یا ہندو انتہا پسندی کا خطرہ تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues

Printed page