Al-Risala · July 1999 · page 47

ایک سیاسی جائز ہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۴۷

مگر اتحاد پسند مسلم قائدین نے اس خطرہ کے مقابلہ کے لئے کوئی تیاری نہیں کی۔ حتیٰ کہ انھوں نے یہ بھی نہیں کیا کہ مسلمانوں کو پیشگی طور پر اس خطرہ سے آگاہ کر دیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۹۴۷ کے بعد جب مسلمانوں کو یہ خطرہ پیش آیا تو وہ صرف احتجاج یا منفی رد عمل کے درجہ میں اپنی کارروائیاں کرتے رہے۔ انھوں نے اس خطرہ کے مقابلہ میں نہ تو کوئی گہری منصوبہ بندی کی اور نہ اس کے مقابلہ میں وہ کوئی حقیقی عملی تدبیر کر سکے۔ ہندوستان میں سماجی اتحاد کے لئے سیکولر فارمولا استعمال کرنا تھا۔ مگر اصل صورت حال یہ تھی کہ یہاں مختلف مذہبی گروہ موجود تھے اور ہر گروہ کے لیڈروں نے ان کے اندر پر شور طور پر یہ مزاج بنایا تھا کہ ۔ ۔۔۔ میں ہندو ہوں، میں مسلمان ہوں، میں سکھ ہوں، میں عیسائی ہوں وغیرہ۔ اس طرح یہاں کا مذہبی طبقہ شدت کی حد تک اس احساس میں مبتلا تھا کہ ہم ایک الگ مذہبی گروہ ہیں اور یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی علیحدہ شناخت (identity) کو سختی کے ساتھ قائم رکھیں۔

اس طرح کے سماج میں سیکولرزم کا اتحادی فارمولا کامیاب نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کی کامیابی کی لازمی شرط یہ تھی کہ یا تو لوگوں کے اندر گروہی تفریق کے مزاج کو ختم کیا جائے یا ان کے اندر یہ ذہن بنایا جائے کہ اپنی علیحدہ مذہبی حیثیت کو باقی رکھتے ہوئے انہیں دوسروں کا بھی پورا احترام کرنا چاہئے۔ مگر ذہنی اور فکری تربیت کا یہ کام انجام نہیں دیا گیا۔ صرف نعروں اور تقریروں کے ذریعہ یہ امید کر لی گئی کہ لوگوں کے درمیان سیکولر اتحاد قائم ہو جائے گا۔ حقیقی حالات کے اعتبار سے یہ ناممکن تھا اس لئے وہ حاصل بھی نہ ہو سکا۔ یہی معاملہ نئے مسلم ملک (پاکستان) میں ایک اور شکل میں پیش آیا۔ جس خطہ میں پاکستان بنا وہاں مختلف بنیادوں پر زبردست گروہی احساسات موجود تھے۔ یہاں کے لوگ

‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues

Printed page