ایک سیاسی جائز ہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۴۸
انھیں احساسات میں جی رہے تھے۔ میں بنگالی ہوں، میں پنجابی ہوں، میں سندھی ہوں، میں بلوچی ہوں، میں سنی ہوں، میں شیعہ ہوں وغیرہ۔
ان تفریقی احساسات کو ختم کرنے یا ان کو غیر موثر بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ البتہ یہ کوشش کی گئی کہ نعروں اور تقریروں کی دھوم کے ذریعہ اسلام کو پورے ملک کے لئے اتحاد کی اساس بنا دیا جائے۔ عالم اسباب میں ایسا ہونا ممکن نہ تھا اس لئے وہ کامیاب بھی نہیں ہوا۔
اسلام بلاشبہ انسانوں کو متحد کرنے کی طاقت رکھتا ہے مگر اسلام کی یہ کرامت اسی وقت ظاہر ہو سکتی ہے جب کہ لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں اسلام کو پوری طرح اتار دیا جائے۔ خارجی نعروں اور اوپر کی تقریروں کے ذریعہ یہ مقصد کبھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ جہاں تک تقسیم ہند کے حامی قائدین کا تعلق ہے وہ بھی اسی طرح کے بھرم میں مبتلا ہے۔ انھوں نے سمجھا کہ سارا معاملہ ہندو قوم اور مسلم قوم کے باہمی اختلاف کا ہے۔ اور اس کا آسان حل یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جغرافی تقسیم کر دی جائے ۔ جب ہندوالگ ہوگا اور مسلمان الگ تو اپنے آپ تمام جھگڑے ختم ہو جائیں گے۔ مگر یہ اصل صورت حال کا ایک غیر حقیقی اندازہ تھا۔ حقیقی حالات کے اعتبار سے اصل صورت حال یہ تھی کہ تقسیم کا نتیجہ صرف یہ نکلے کہ جو مسائل پہلے ہندو اور مسلمان کے درمیان تھے وہ تقسیم کے بعد نئے مسلم ملک میں مسلم اور مسلم کے درمیان مزید اضافہ کے ساتھ ابھر آئیں۔ ۱۹۴۷ کے بعد نئے مسلم ملک میں عملاً ایسا ہی پیش آیا۔ ہر وہ نزاع جس کا ذکر پہلے ہندو کی نسبت سے کیا جاتا تھا وہ نئے ملک میں خود مسلمانوں کی نسبت سے بہت بڑے پیمانے پر پیدا ہو گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues