ایک سیاسی جائز ہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۴۹
۱۹۴۷ سے پہلے کچھ ایسے دانش ور موجود تھے جو دونوں گروہوں کو آنے والے خطرے سے ڈراتے تھے۔ اتحاد ہند کے قائدین کو ہندوانتہا پسندی کے خطرہ سے اور تقسیم ہند کے قائدین کو خود مسلمانوں کی نسل پسندی اور علاقہ پسندی کی ذہنیت سے۔ مگر دونوں گروہوں نے اس انتباہ کو نظر انداز کیا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ دونوں اس بھرم میں مبتلا تھے کہ ان کے پاس اتحاد کا ایسا فارمولا موجود ہے جو ہر افتراق کی کاٹ کے لئے کافی ہے۔ اتحاد پسند قائدین سمجھتے تھے کہ ان کے پاس سیکولرزم کا تیر بہدف فارمولا موجود ہے۔ اور سیکولرزم کے نظریہ کے تحت ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک رشتہ میں جوڑ کر متحد کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف تقسیم ہند کے قائدین یہ سمجھتے تھے کہ ان کے پاس اسلام کا معیاری نظریہ ہے جو مختلف مسلم گروہوں کو ایک رشتہ میں باندھنے کے لئے کافی ہے۔ مگر تجربات بتاتے ہیں کہ یہ دونوں ہی خوش فہمی بے بنیاد ثابت ہوئی۔ نہ ہندوستان میں سیکولرزم یہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک رشتہ میں متحد کر سکا اور نہ پاکستان میں اسلام کے نعرہ کا یہ فائدہ ہوا کہ وہاں کے مختلف مسلم گروہ باہم متحد ہو کر رہیں۔
اس تلخ انجام کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ سیکولرزم یا اسلام میں لوگوں کو متحد کرنے کی طاقت نہیں۔ سیکولرزم اور اسلام دونوں ہی کسی سماج میں اتحادی فورس بن سکتے ہیں۔ مگر وہ اتحادی طاقت اسی وقت بنیں گے جب کہ انہیں استعمال کیا جائے۔ ہندوستان اور پاکستان کے اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ دونوں میں سے کسی نظریہ کو صحیح طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔
ہندوستان پاکستان دونوں ملکوں میں جو ہوا وہ یہ تھا کہ یہاں سیکولرزم کے نعرے
‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues