Al-Risala · January 1999 · page 38

عملی حالات کی رعایت

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۳۸

نماز ہی کی اقامت ، بالفاظ دیگر نماز کی کامل ادائیگی مراد ہوگی نہ کہ نماز کے سوا کسی اور خود ساختہ چیز کی اقامت یا ادائیگی۔

سوال

ہمارے علمی حلقہ کے ایک دوست کا اصرار ہے کہ آپ سے ایک سوال معلوم کیا جائے۔ وہ یہ کہ ان کے ایک دوست جو کبھی آپ کے بہت قریب رہا کرتے تھے۔ کسی وقت ان کا آپ کے بیت الخلا میں جانے کا اتفاق ہوا اور انھوں نے آپ کے بیت الخلا میں بخاری شریف کور کھا ہوادیکھا۔ ایسے مقام پر بخاری شریف کا پایا جانا ان کے لئے نفرت کا سبب بن گیا۔ اور وہ آپ سے دوری اختیار کر گئے۔ اور ہمارے علمی حلقہ میں سبھی اس تعلق سے وضاحت چاہتے ہیں کہ آیا یہ ایک حقیقت ہے یا پھر آپ کی دشمنی میں ایک غلط بات اڑا دی گئی ہے (محسن احمد، حیدر آباد)

جواب

یہ صحیح ہے کہ میرے مطالعہ کے کمرہ سے ملحق باتھ روم میں ایک الماری پر کچھ جلدیں رکھی ہوئی ہیں۔ مگر یہ جلدیں صحیح البخاری کی نہیں ہیں بلکہ وہ اخبار کی جلدیں ہیں۔ اور جدید طرز کے ایک صاف ستھرے باتھ روم کی ایک الماری میں کسی اخبار کی جلدیں رکھنے میں یقینی طور پر کوئی حرج نہیں۔ صحیح البخاری میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : آیا کم الظن فان الظن اکذب الحدیث) فتح الباری بشرح النووی ٤٩٦/١٠) یعنی تم لوگ گمان سے بچو کیوں کہ گمان سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ آپ کے دوست نے خود صحیح البخاری کی اس روایت پر عمل نہیں کیا۔ انھیں چاہئے تھا کہ باتھ روم میں رکھی ہوئی جلد کو کھول کر دیکھتے یا مجھ سے اس کی بابت پوچھتے۔ ایسا نہ کر کے انھوں نے صرف گمان کی بنیاد پر

‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues

Printed page