عملی حالات کی رعایت
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۳۹
ایک بے بنیاد رائے قائم کی اور اس کو پھیلانا شروع کر دیا۔ یہ نہ صرف ایک غیر ذمہ دارانہ فعل ہے بلکہ وہ حدیث کے الفاظ میں ایک قسم کا کذب ہے۔
سوال
الرساله اکتوبر ۹۸ صفحہ ۴۳ پر قولی دعوت و فعلی دعوت کے جواب میں آپ نے فعلی دعوت کی نفی کی ہے۔ جب کہ قرآن سے فعلی دعوت ثابت ہے ۔ مثال کے طور پر سورہ القلم کی یہ آیت انك لعلى خلق عظیم (محسن احمد، حیدر آباد)
جواب
الرساله کی عبارت آپ نے غور سے نہیں پڑھی ، ورنہ اس میں پوری بات موجود ہے۔ فعل بلاشبہ مطلوب ہے۔ مگر فعل یا کردار آدمی کی ذاتی ذمہ داری ہے نہ کہ دعوت کی شرط۔ آپ نے قرآن کی جس آیت کا حوالہ دیا ہے اس سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ مفسر ابن کثیر نے لکھا ہے کہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ تبلیغ کے لئے عمل شرط نہیں ہے۔ عمل بلاشبہ ایک شخص کی لازمی ذمہ داری ہے اور اس کے ترک پر اس سے یقیناً باز پرس ہوگی۔ مگر یہ کہنا صحیح نہیں کہ دعوت کا کام وہی شخص کر سکتا ہے جو پورے معنوں میں باعمل بن چکا ہو (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر ۱/ ۸۵) سوال دریائے سندھ کے اس پار جو لوگ بستے ہیں ان کو خود مسلم فاتحین نے ہندو کہا تھا۔ اس کے مطابق، ہمارا کہنا ہے کہ بھارت میں بسنے والے تمام لوگ ہندو ہیں۔ خواہ مذہب کے اعتبار سے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلمان ۔ پھر آپ لوگ اپنے آپ کو ہندو کہلانے کو کیوں برا مانتے ہیں (نشانت کمار، نئی دہلی)
‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues