Al-Risala · August 1999 · page 11

ناحق مال کھانا

الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۱۱

کہ انصاف کی رو سے وہ اس کا حقدار نہیں۔ زیر نزاع جائیداد یا مال حقیقتاً اس کے بھائی کا ہے نہ کہ اس کا۔ لیکن اس ذاتی علم کے باوجود وہ اپنے مقدمہ کو انسانی عدالت میں لے جائے۔ جس چیز کو وہ اپنے ضمیر کی عدالت سے بجاطور پر نہیں پا سکتا تھا اس کو خارجی عدالت کے ذریعہ بے جا طور پر حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔

انسانی حاکم کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ظاہر کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ وہ مقدمہ کے الفاظ کو دیکھتا ہے نہ کہ اس کی اصل حقیقت کو۔ اس لئے یہاں یہ موقع ہوتا ہے کہ اپنے مقدمہ کی ایسی لفظی تصویر بنائی جائے جو حاکم یا بنچ کو گمراہ کر دے۔ وہ ظاہری الفاظ کی بنیاد پر ایسا فیصلہ دے دے جو حقیقت واقعہ سے کوئی تعلق نہ رکھتا ہو۔

جب لوگوں کے دلوں میں آخرت کی پکڑ کا خوف ہو تو وہ مال اور جائیداد کے ایسے مقدمات عدالت میں نہیں لے جائیں گے جن کی بابت ان کا دل پیشگی طور پر یہ کہہ رہا ہو کہ یہ میرا حق نہیں ہے۔ مگر جب دلوں میں آخرت کا خوف نہ رہے تو ذاتی مفادات ہی لوگوں کے رہنما بن جاتے ہیں۔ وہ بے تکلف ایسے معاملات کو لے کر انسانی عدالت میں پہنچ جاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ وہ مقدمہ کو عدالت کے سامنے ایسے پر فریب الفاظ میں پیش کر سکیں گے جن سے متاثر ہو کر وہ ایک ایسی چیز انہیں دے دے جو از روئے حق ان کی نہیں ہے۔ ضمیر کی عدالت کے سامنے جھک جانا اس بات کی علامت ہے کہ امت زندہ دین پر قائم ہے اور جب لوگ ضمیر کی عدالت کو نظر انداز کر کے اپنے مقدمات انسانی عدالتوں میں لے جانے لگیں تو سمجھنا چاہیے کہ امت اپنے دور زوال میں پہنچ گئی۔

ایک شخص جس کے سینہ میں اللہ کا ڈر ہو، جو آخرت کی پکڑ کا اندیشہ رکھتا ہو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ عدالت میں صرف اپنا جائز حق لینے کے لئے جاتا ہے، نہ کہ عدالت کی طاقت سے دوسروں کے حق پر اپنا قبضہ قائم کرنے کے لئے۔ عدالت کے زور پر ایک ایسی

‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues

Printed page