غیر شرعی بنیاد
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۱۲
چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا جرم ہے جو حقیقی معنوں میں اس کی نہ ہو۔ جو آدمی آخرت کی پکڑ سے ڈرتا ہو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک چیز اس کے قبضہ میں ہو مگر اس کا دل کہہ رہا ہو کہ وہ اس کی نہیں ہے تو عدالتی فیصلہ کا انتظار کئے بغیر وہ ایسی چیز کو اصل حقدار کے حوالہ کر دے گا۔ کیونکہ اس کو یقین ہوگا کہ جو چیز از روئے واقعہ میری نہیں وہ کسی انسانی عدالت کے فیصلہ کی بنا پر میری نہیں ہو سکتی، خواہ وہ عدالت کتنی زیادہ بڑی کیوں نہ ہو۔
غیر شرعی بنیاد
قرآن کی سورہ نمبر ۲ میں ارشاد ہوا ہے کہ۔ اور تم آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناحق طور پر نہ کھاؤ اور ان کو حاکموں تک نہ پہنچاؤ تا کہ دوسروں کے مال کا کوئی حصہ تم حق تلفی کر کے کھا جاؤ۔ حالاں کہ تم اس کو جانتے ہو (البقرہ ۱۸۸)
اس سے مراد وہ صورت حال ہے جب کہ ایک چیز جو شرعی قانون کے تحت نہ مل سکتی ہو اس کو غیر شرعی قانون کے زور پر حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ایک ایسا مال یا ایک ایسی جائداد جس کے متعلق معلوم ہو کہ شریعت الہی کے مطابق وہ تمہارا حق نہیں ہے اس کو غلط تدبیر کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو۔ ایسا نہ کرو کہ ایسے مال اور جائداد کے معاملہ کو دنیوی عدالت میں لے جاؤ اور اس کے زور پر وہ چیز حاصل کرنے کی تدبیر کرو جو از روئے شریعت تمہاری نہیں ہے۔
جب بھی کسی مال یا جائداد کا مسئلہ پیدا ہو تو عام حالات میں انسان کا ضمیر ہی یہ بتانے کے لئے کافی ہوتا ہے کہ از روئے واقعہ وہ کس کا حق ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق معاملہ کرے۔ جو اس کا حق ہے اس کو اپنے پاس رکھے اور جو
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues