غیر شرعی بنیاد
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۱۳
دوسرے کا حق ہے اس کو دوسرے کے حوالے کر دے۔
تاہم بعض حالات میں ضمیر کی رہنمائی واضح نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں آدمی کو چاہئے کہ شریعت کے معلوم قوانین کی روشنی میں اس کو جانچے اور شریعت کے ذریعہ جو فیصلہ مل رہا ہو اس کو خدائی فیصلہ سمجھ کر اسی پر راضی ہو جائے۔ اگر معاملہ دو فریق کے درمیان نزاعی ہو اور بطور خود اس کا فیصلہ نہ کیا جا سکتا ہو تو دونوں فریقوں کا فرض ہے کہ وہ اس معاملہ کو شرعی عدالت میں لے جائیں۔ اگر باضابطہ شرعی عدالت کا نظام قائم نہ ہو تو دوسری صورت یہ ہے کہ اس معاملہ میں علماء اسلام کی طرف رجوع کیا جائے اور یہ علماء اپنے شرعی علم کے مطابق جو فیصلہ دیں اس کو بلا بحث مان لیا جائے۔ نزاعی معاملات میں یہی طریقہ خدا کا مطلوب طریقہ ہے۔ جو لوگ ایسا کریں کہ وہ اپنا مقدمہ غیر شرعی عدالتوں میں لے جائیں، جو مال یا جائیداد انہیں شرعی قانون کے تحت نہیں مل سکتا تھا اس کو غیر شرعی عدالت کے زور پر حاصل کرنے کی کوشش کریں وہ بلا شبہ خدا کی نظر میں سرکشی کے مجرم ہیں۔ ایسا کرنے والے لوگ بیک وقت اپنے لئے دو خطرہ مول لے رہے ہیں۔ ایک یہ کہ غیر شرعی عدالت کے زور پر اپنے حق میں فیصلہ لینے کے با وجود زیر بحث معاملہ میں ان کی حیثیت خدا کے نزدیک غاصب کی رہے گی نہ کہ مالک کی۔ دوسرے یہ کہ موت کے بعد جب وہ خدا کی بر تر عدالت میں پہنچیں تو وہاں ان کے ساتھ وہ معاملہ کیا جائے جو خدا کے نافرمانوں کے لئے مقدر ہے۔
موجودہ زمانہ میں بھی اکثر ملکوں (مثلاً ہندوستان) میں تقریباً یہی صورت حال قائم ہے یعنی ہر ملک میں بیک وقت دو مختلف قسم کے فیصلے حاصل کرنے کے انتظامات ہیں ایک طرف علمائے دین ہیں، جو لوگ اپنے مسائل میں ان علماء سے رجوع کریں، وہ شریعت کی
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues