غیر شرعی بنیاد
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۱۴
روشنی میں ان کے معاملات کا فیصلہ دیں گے۔ دوسری طرف ملکی عدالتیں ہیں جہاں انسانی ساخت کے قوانین رائج ہیں، جہاں وکیلوں کو بڑی بڑی فیس دے کر ان کے ذریعہ غلط طور پر اپنے موافق فیصلے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
اس طرح دنیا کے اکثر ملکوں میں مسلمان دوبارہ اسی آزمائش میں مبتلا ہیں جس آزمائش میں مدینہ کے دورِ اول کے مسلمان مبتلا تھے۔ اب جو مسلمان ایسا کریں کہ جب بھی ان کے درمیان کوئی نزاع پیش آئے خواہ وہ نکاح و طلاق کا معاملہ ہو یا مال اور جائیداد کا معاملہ، وہ اس کا فیصلہ خدائی شریعت سے کرائیں، یعنی وہ اپنے اس طرح کے معاملات کو دینی علماء (یا دار الافتاء اور دار القضاء) کے پاس لے جائیں۔ معاملہ کے دونوں فریق اپنا اپنا نقطہ نظر علماء کے سامنے بیان کریں۔ اس کے بعد وہ شریعت کی روشنی میں جو فیصلہ دیں اس کو دونوں فریق پوری طرح مان لیں۔ اس کے بعد نہ وہ اپنی نزاع کو دوبارہ جاری رکھیں اور نہ ایسا کریں کہ جس فریق کے خلاف فیصلہ ہوا ہو وہ اس کو لے کر ملکی عدالت تک پہنچ جائے اور دوبارہ وہاں از سر نو اس کے خلاف مقدمہ شروع کرا دے۔
اس کے برعکس جو مسلمان اپنے نزاعی معاملات کو علماء کے پاس نہ لائیں بلکہ وہ اس کو ملکی عدالتوں میں لے جاکر ہر قیمت پر اپنے حق میں فیصلہ لینے کی کوشش کریں۔ ایسے لوگ بلا شبہ مذکورہ آیت کا مصداق ہیں۔ وہ خدا اور رسول کو چھوڑ کر شیطان (طاغوت) کے پاس جارہے ہیں۔
یہ صورتِ حال تمام مسلمانوں کے لئے ایک سنگین آزمائش ہے۔ جو لوگ اپنے نزاعی معاملات کا فیصلہ خدائی شریعت کے مطابق لیں اور برضاور غبت اس کو قبول کرلیں، وہ اس آزمائش میں پورے اترے۔ ایسے لوگ خدا کے یہاں مخلص مسلمان ثابت ہوں گے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues