Al-Risala · August 1999 · page 15

تحریفِ کتاب

الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۱۵

اور خدائی انعامات کے مستحق قرار پائیں گے۔

اس کے برعکس جو لوگ ایسے معاملات میں خدائی شریعت کو نظر انداز کر دیں، اور مفاد پرستی اور خود غرضی کے جذبہ کے تحت اپنا مقدمہ ان عدالتوں میں لے جائیں جن کے متعلق ہندوستان کے ایک ماہر قانون نے بجاطور پر کہا ہے کہ یہ عدالتیں مبنی بر مقدمہ بازی (litigation-based) ہیں نہ کہ مبنی بر صداقت (truth-based)۔ ایسے لوگ بلاشبہ اسی مجرمانہ ذہنیت کے شکار ہیں جس کا ذکر اوپر کی آیت میں آیا ہے ان عدالتوں کے متعلق معلوم ہے کہ وہاں انصاف کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ وہاں معاملات کا فیصلہ قانونی نکتوں پر ہوتا ہے نہ کہ حقیقی واقعات پر۔ اب جو لوگ ایسا کریں کہ وہ خدائی شریعت کے مطابق فیصلہ لینے کے لئے تیار نہ ہوں۔ بلکہ مذکورہ قسم کی عدالتوں میں اپنے معاملات لے جائیں وہ بلاشبہ اللہ کے پرستار نہیں، بلکہ وہ طاغوت کے پرستار ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے سخت اندیشہ ہے کہ وہ ”نماز روزہ“ کے باوجود خدا کے نزدیک مجرم قرار پائیں اور آخرت میں ان کا انجام وہ ہو جو غیر خدا کے پرستاروں کے لئے مقدر کیا گیا ہے۔

تحریفِ کتاب

قرآن کی سورہ نمبر ۲ میں یہود کے علماء کی بابت ارشاد ہوا ہے کہ پس خرابی ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ تاکہ اس کے ذریعہ تھوڑی سی پونجی حاصل کر لیں۔ پس خرابی ہے اس چیز کی بدولت جو ان کے ہاتھوں نے لکھی اور ان کے لئے خرابی ہے اپنی اس کمائی سے۔ (البقرہ۔ ۷۹) کسی امت کے بعد کے لوگ جب زوال کا شکار ہوتے ہیں۔ تو ان کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ ظاہری عقیدہ کے اعتبار سے تو وہ خدا کی کتاب کو مانتے ہیں مگر ان کی عملی زندگی سر تا سر

‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues

Printed page