تحریفِ کتاب
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۱۶
کتاب الہی سے آزاد ہو جاتی ہے۔ وہ خدا کی کتاب کا زبانی اقرار کرنے کے باوجود اپنی زندگی کو پوری طرح خواہشات کے راستہ پر چلا دیتے ہیں۔
اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر، اب بھی وہ اپنے کو حق پرست ظاہر کرتے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ خواہ وہ عملی اعتبار سے کتنا ہی زیادہ منحرف ہو جائیں مگر خدا پرست ہونے کا لیبل اب بھی ان کے اوپر لگا رہے۔ اس مقصد کے لئے وہ خدا کی کتاب کی ایسی خود ساختہ تفسیر و تعبیر کرنے لگتے ہیں جس کے تحت ان کی بگڑی ہوئی زندگی عین خدائی ، شریعت کے مطابق نظر آنے لگے۔
یہودی علماء نے خدا کی کتاب میں تحریف کا یہ کام بہت بڑے پیمانے پر کیا۔ انھوں نے اپنے فاسد خیالات اور غلط کردار کو درست ثابت کرنے کے لئے خدا کی کتاب میں تحریفات کر کے اس کو اپنے مطابق ڈھال لیا۔ حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، یہی فعل بعد کے حامل کتاب بھی انجام دیں گے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ یہود نے کتاب کے متن میں تحریفات کیں اور بعد کے لوگ متن کی تشریح میں یہی کام انجام دیں گے۔ غلط روی ایک عام انسانی کمزوری ہے۔ مگر جب کوئی حامل کتاب گروہ غلط روی کا شکار ہو جائے تو وہ اپنی مخصوص نفسیات کی بنا پر یہ چاہنے لگتا ہے کہ وہ جو کچھ کرے وہی خدا کی کتاب میں بھی لکھا ہوا ہو۔ اس قسم کی خود ساختہ تفسیر و تشریح بلا شبہ بہت بڑا جرم ہے۔ مگر جب زوال کا دور آتا ہے تو وہ اپنے ساتھ بے حسی ضرور لے آتا ہے۔ اب لوگ خدائی معاملات میں زیادہ حساس نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ دور زوال میں حسب حال دینی تشریحات عام ہو جاتی ہیں۔ لوگ دنیا کے فائدہ کی خاطر دین کو بدل ڈالتے ہیں۔ تحریف کا یہ معاملہ ہمیشہ دور زوال میں پیش آتا ہے جب کسی حامل کتاب پر زوال
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues