Al-Risala · January 1999 · page 40

عملی حالات کی رعایت

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۴۰

جواب

ہندوستان یا بھارت اس وقت مسلم فاتحین کے زیر حکومت نہیں ہے۔ آزادی کے بعد یہاں کا سیاسی اور سماجی نظام دستور ہند کے تحت چل رہا ہے۔ اس دستور میں اس ملک کے تمام باشندوں کو انڈین بتایا گیا ہے۔ چنانچہ پاسپورٹ وغیرہ میں اس ملک کا ہر رہنے والا اپنے آپ کو انڈین لکھتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا کہ اس ملک کے تمام باشندوں کی نیشنلٹی ہندو ہے دستور کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اگر کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک کے تمام بسنے والوں کو ہندو کہا جائے تو ان کو سب سے پہلے دستور ہند میں ترمیم کر کے اس کی متعلقہ دفعات کو بدلنا چاہئے۔ موجودہ حالت میں اس قسم کا مطالبہ کرنا دستور ہند کے خلاف ہے، اس لئے کسی کو ایسا کہنے کا حق ہی نہیں۔

سوال

حال ہی میں ہوئے بہار شریف میں فرقہ وارانہ ہندو مسلم فسادات کی خاص وجہ یہ تھی کہ ہندو نے دُرگا کی مورتی کو لے کر مسلم محلہ میں آگئے اور اشتعال انگیز نعرہ لگانے لگے۔ کہ مسلمان ہندوستان کے غدار ہیں، مسلمان پاکستانی ایجنٹ ہیں، ان کو ہندوستان سے مار بھگاؤ۔ اس موقع پر مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے تھا (شاہ فیصل، ویآؤ نالندہ )

جواب

اس سوال کا جواب پیشگی طور پر خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق نے دے دیا ہے۔ وہ انھیں کے الفاظ میں یہ ہے: امیتوا الباطل بالصمت عنہ (باطل کو ہلاک کرو اس سے چپ رہ کر) مذکورہ قسم کے مسائل کا بہترین حل یہ ہے کہ ان کے بارے میں خاموشی اور اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اعراض سے یہ مسئلہ صرف دو منٹ کے نعرہ پر ختم ہو جاتا

‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues

Printed page