بعد کی نسلیں
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۲۶
یقینی ہے کہ یہ دور دعوتِی اعتبار سے ان کے لئے مشکل ترین دور ہوگا۔ نئے ہندوستانی حکمراں دستور ہند میں مذہبی آزادی کی دفعہ (آرٹیکل ۲۵) کو بدلنے کی کوشش کریں گے۔ اور ایسے قوانین بنائیں گے جن کے تحت دعوتی کام کرنا مشکل ہو جائے۔
یہ عین وہی سنت الہی ہے جو ہمارے حالات کے لحاظ سے ہمارے اوپر نافذ ہو رہی ہے۔ حاکمانہ حیثیت کے بعد مساویانہ حیثیت، مساویانہ حیثیت کے بعد حقوق یافتہ حیثیت، حقوق یافتہ حیثیت کے بعد دعوتی اعتبار سے بے حقوق حیثیت۔
بعد کی نسلیں
قرآن کی سورہ نمبر ۷ میں سابق اہل کتاب کے بارے میں ارشاد ہوا ہے۔ پھر ان کے پیچھے ناخلف لوگ آئے جو کتاب کے وارث بنے، وہ اسی دنیا کی متاع لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم یقیناً بخش دیئے جائیں گے۔ اور اگر ایسی ہی متاع ان کے سامنے پھر آئے تو اس کو لے لیں گے۔ کیا ان سے کتاب میں اس کا عہد نہیں لیا گیا ہے کہ اللہ کے نام پر حق کے سوا کوئی اور بات نہ کہیں۔ اور انھوں نے پڑھا ہے جو کچھ اس میں لکھا ہے۔ اور آخرت کا گھر بہتر ہے ڈرنے والوں کے لئے کیا تم سمجھتے نہیں۔ (الاعراف-۱۶۹)
کسی امت کو جب خدا کی کتاب ملتی ہے تو اس کی پہلی نسل کے لوگوں کے لئے اس کی حیثیت ایک عہد نامہ کی ہوتی ہے۔ وہ اس کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ لیتے ہیں۔ ان کو یقین ہوتا ہے کہ یہ کتاب ایک خدائی گائیڈ بک ہے اور اس لئے ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالیں۔ وہ اس کو اپنے حق میں ایک سنگین عہد و پیمان کا معاملہ سمجھتے ہیں۔ مگر امت کی اگلی نسلوں میں یہ شعور زندہ حالت میں باقی نہیں رہتا۔ خدا کی کتاب ان کے بعد کے لوگوں کو بطور وراثت ملتی ہے، وہ ان کے لئے ذاتی دریافت کے ہم معنی نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues