اکابر پرستی
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۲۷
ہوتی۔ جب یہ مرحلہ آتا ہے تو امت کے لوگ ایمانی گراوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں اس گراوٹ کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ ان کے عمل کا نشانہ بدل جاتا ہے۔ ابتدائی نسلوں میں دین اگر ان کا نشانہ عمل تھا تو بعد کی نسلوں میں دنیا ان کا نشانہ عمل بن جاتی ہے۔
رسمی اور ظاہری اعتبار سے دین اب بھی ان کے یہاں دکھائی دیتا ہے مگر حقیقی اسپرٹ کے اعتبار سے وہ ان کے درمیان موجود نہیں ہوتا۔ اب ان کی عملی زندگی پوری طرح دنیا طلبی کے راستہ پر چل پڑتی ہے۔ مادی ترقی ان کا اصل مقصود بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ظاہری پہلوؤں کو ہٹا کر دیکھا جائے تو ان میں اور دوسری قوموں میں کوئی حقیقی فرق باقی نہیں رہتا۔
اس غیر دینی روش کو ہمہ تن اختیار کرنے کے باوجود وہ اپنی آخرت کی کامیابی کے معاملے میں پوری طرح مطمئن رہتے ہیں۔ اس اطمینانِ کاراز ان کا یہ خود ساختہ عقیدہ ہوتا ہے کہ ہمارا معاملہ دوسروں سے مختلف ہے۔ ہم ہر حال میں بخش دیئے جائیں گے : ہمارے پیغمبر اور ہمارے بزرگ ہر حال میں ہم کو آخرت کے عذاب سے بچا لیں گے۔ اس قسم کا عقیدہ سراسر فریب ہے۔ قرآن کے مطابق وہ کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں اس قسم کا خود ساختہ عقیدہ نہ پچھلی امت کے لوگوں کے لئے کار آمد ہو سکتا ہے اور نہ بعد کی امت کے لوگوں کے لئے۔
اکابر پرستی
قرآن کی سورہ نمبر ۹ میں دور زوال کے اہل کتاب کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے اپنے اخبار اور اپنے رہبان کو اللہ کے سوا اپنارب بنالیا (التوبہ۔ ۳۱) اس آیت میں اہل کتاب کی اس گمراہی کی نشاندہی کی گئی ہے کہ انھوں نے اپنے علماء
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues