Al-Risala · August 1999 · page 28

اکابر پرستی

الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۲۸

اور مشائخ کو رب کا درجہ دے دیا تھا۔ رب بنانے سے کیا مراد ہے۔ اس کی وضاحت ایک روایت سے ہوتی ہے۔ عدی ابن حاتم جو عہد جاہلیت میں نصرانی ہو گئے تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے۔ آپ نے مذکورہ آیت انھیں سنائی۔ اس کو سن کر عدی بن حاتم نے کہا کہ اے خدا کے رسول انھوں نے اپنے اخبار و رہبان کی عبادت تو نہیں کی تھی۔ آپ نے جواب دیا ہاں، ان کے اخبار اور رہبان نے ان پر حلال کو حرام کیا اور حرام کو حلال کیا تو انھوں نے ان کی پیروی کی یہی ان کی طرف سے ان کی عبادت ہے۔ (تفسیر ابن کثیر۔ ۳۲۸/۲)

دور زوال میں کسی امت میں جو سب سے بڑی کمی پیدا ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا کے بارے میں اس کا عقیدہ کمزور ہو جاتا ہے۔ اس کا عقیدہ معرفت پر مبنی نہ ہو کر تقلید پر قائم ہو جاتا ہے۔ اس کے افراد غیر محسوس خدا کی بڑائی میں نہیں جیتے بلکہ محسوس خداؤں کی بڑائی میں گم رہتے ہیں۔ یہی وہ دور ہے جب کہ امت اس خرابی میں مبتلا ہو جاتی ہے جس کا اوپر کی آیت میں ذکر ہوا۔

اس دور زوال میں امت اپنے قومی بڑوں کو وہ درجہ دے دیتی ہے جو صرف خدا کے لئے خاص ہے خدا کا مقام یہ ہے کہ وہ جو کچھ کہے اس کو بلا بحث مان لیا جائے۔ زوال یافتہ امت اپنے قومی بڑوں کے معاملہ میں یہی کرتی ہے۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں بلا بحث ان کو تسلیم کر لیتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی مصلح ان قومی بڑوں کی کسی بات پر تنقید کرے تو یہ لوگ اس پر اسی طرح برہم ہو جائیں گے جس طرح خدا کے خلاف بات پر انھیں برہم ہونا چاہئے۔ مومن وہ ہے جو خدا وند عالم کی بڑائی میں جئے۔ ایسے انسان کو خدا کے سوا ہر دوسری بڑائی چھوٹی نظر آتی ہے۔ لیکن جن لوگوں کا دین رسمی عقیدہ پر قائم ہو، جنھوں نے خدا کو

‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues

Printed page