Al-Risala · August 1999 · page 29

کتاب کو پس پشت ڈالنا

الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۲۹

اس کی عظمتوں کے ساتھ دریافت نہ کیا ہو وہ اپنے خود ساختہ اکابر کو بڑا سمجھ لیتے ہیں۔ وہ مخلوق کو وہ درجہ دیتے ہیں جو صرف خالق کے لئے خاص ہے۔

جب کسی قوم پر اس قسم کا زوال آتا ہے۔ تو اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس قوم کے لئے دین کا ماخذ بدل جاتا ہے۔ دین میں ماخذ کی حیثیت صرف خدا اور رسول کو حاصل ہے۔ مومن کو اپنا عقیدہ یا عمل براہ راست خدا سے اور اس کے رسول سے اخذ کرنا ہے۔ مگر جب کسی قوم پر مذکورہ قسم کا زوال آتا ہے تو اس کے یہاں دین کا ماخذ بدل جاتا ہے اب وہ اپنا دین اپنے علماء اور اپنے بزرگوں سے لینے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مفروضہ اکابر کو وہ درجہ دے دیتے ہیں جو درجہ انھیں صرف خدا اور اس کے رسول کو دینا چاہئے۔ پرستش ایک فطری جذبہ ہے۔ وہ ہر انسان کی داخلی شخصیت میں آخری حد تک سرایت کئے ہوئے ہے۔ انسان خود اپنی فطرت کے تحت مجبور ہے کہ وہ کسی نہ کسی کو اپنی پرستش کا مرکز بنائے صاحب معرفت انسان ایک خدا کو پرستش کے اس جذبہ کا مرکز بناتا ہے۔ مگر جو لوگ معرفت سے خالی ہوں وہ ہر اس چیز کی پرستش کرنے لگتے ہیں جو بظاہر انھیں بڑی دکھائی دے۔

کتاب کو پس پشت ڈالنا

قرآن کی سورہ نمبر ۳ میں یہود کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جب اللہ نے اہل کتاب سے عہد لیا کہ تم خدا کی کتاب کو پوری طرح ظاہر کرو گے اور اس کو نہیں چھپاؤ گے۔ مگر اس کو انھوں نے پس پشت ڈال دیا اور اس کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالا۔ کیسی بری چیز ہے جس کو وہ خرید رہے ہیں۔ (آل عمران۔ ۱۸۷)

خدا کی کتاب کی حقیقت ایک مقدس عہد نامہ کی ہے۔ خدا کی کتاب جب کسی قوم کو

‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues

Printed page